Trump's new threat to Iran, targeting the underground nuclear site 'Pick X Mountain

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ زیرِ زمین جوہری مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر سرگرمیاں جاری رہنے کی صورت میں امریکا سخت کارروائی کرسکتا ہے۔ ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ریپبلکن مڈٹرم کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ’پک ایکس‘ کے مقام پر کچھ سرگرمی دیکھی ہے اور ایران کو محتاط رہنا چاہیے، بصورت دیگر امریکا کو بہت سخت کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔

’پک ایکس ماؤنٹین‘ تہران سے تقریباً 140 میل جنوب میں واقع ہے اور تباہ شدہ نطنز جوہری تنصیب کے قریب ایک انتہائی محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس مقام پر زیرِ زمین گہرے سرنگی کمپلیکس موجود ہیں۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی اصفہان صوبے میں اس مقام پر تعمیراتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی  کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے مطابق ادارے نے تنصیب کے اندرونی حصے کا معائنہ نہیں کیا، تاہم دور سے حاصل کی گئی تصاویر میں نئی سرگرمی دیکھی گئی ہے۔

ٹرمپ مسلسل ایران کی جوہری صلاحیت کو کمزور کرنے کو جنگ کے اہم مقاصد میں شامل کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فورس کے مطابق یہ سیل ڈرون ایکسپلورر طرز کا ڈرون تھا، جسے امریکی پانچویں بحری بیڑے نے استعمال کیا۔

ایران نے ایک امریکی زیرِ آب ڈرون قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا ایک زیرِ آب ڈرون صرف خراب ہوا تھا۔

ادھر آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث بحری تجارت متاثر ہوئی ہے۔ ابتدائی شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایک روز میں آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد 12 سے کم ہوکر 7 رہ گئی، جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط 14 ٹرانزٹ تھی۔

ان سات جہازوں میں سے چار آبنائے سے باہر نکلے، جن میں تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے والا ایک بڑا ٹینکر بھی شامل تھا، جبکہ کوئی ایل این جی ٹینکر آبنائے سے باہر نہیں نکلا۔