Major diplomatic clash over Iran nuclear deal, world powers divided in Security Council

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی ممکنہ بحالی کے معاملے پر سلامتی کونسل میں عالمی طاقتوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آگئے، جہاں روس اور چین نے اجلاس روکنے کی کوشش کی، تاہم کونسل نے 11 ووٹوں سے عارضی ایجنڈا منظور کرلیا۔

یہ تنازع 2015 کے ایران جوہری معاہدے، جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے، میں شامل ’اسنیپ بیک‘ شق سے متعلق ہے۔ اس شق کے تحت ایران کی معاہدے سے متعلق خلاف ورزیوں کی صورت میں اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ بحال ہوسکتی ہیں۔

روسی نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ قرارداد 2231 کے تحت پابندیوں کی بحالی کا طریقہ کار فعال ہی نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اس حوالے سے قانونی اور طریقہ کار سے متعلق کئی سوالات موجود ہیں، جبکہ قرارداد 2231 کی مدت 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہوچکی ہے۔

روس نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ ایران سے متعلق قرارداد 1737 کی پابندیوں کی کمیٹی 2015 میں ختم کردی گئی تھی، اس لیے اسے دوبارہ فعال کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

چین نے بھی روس کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک اختلافات کو نظرانداز کرکے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں زبردستی بحال کرنے اور ختم کیے گئے ایجنڈے کے تحت اجلاس بلانے پر اصرار کررہے ہیں۔

بیجنگ نے خبردار کیا کہ یکطرفہ اقدامات سلامتی کونسل میں ادارہ جاتی تقسیم کو مزید گہرا کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے روس اور چین کے مؤقف کو مسترد کردیا۔ برطانوی نمائندے نے کہا کہ تینوں یورپی ممالک نے قرارداد 2231 کے مطابق اسنیپ بیک میکنزم فعال کیا کیونکہ ایران نے 2015 کے معاہدے پر نمایاں عدم عمل درآمد کیا تھا۔

برطانیہ کے مطابق یہ عمل 28 ستمبر 2025 کو مکمل ہوا اور اقوام متحدہ کی باب ہفتم کے تحت چھ قراردادیں تقریباً ایک سال سے نافذ ہیں۔

فرانس نے بھی کہا کہ پابندیاں بحال ہوچکی ہیں اور 1737 کمیٹی کو ہر 90 روز بعد رپورٹ دینے کا اختیار حاصل ہے۔

امریکی نمائندے نے روس اور چین پر ایران کو فائدہ پہنچانے کے لیے سلامتی کونسل کے فیصلوں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ واشنگٹن کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی ایران کو جامع حفاظتی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔