The Makkah defense pact will not come into immediate effect; Pakistan has clarified its position

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری تنازع میں براہِ راست فوجی کارروائی کی قیاس آرائیوں کو کم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو فوری طور پر کسی فوجی آپریشن کے لیے فعال کرنے پر فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعرات کو کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اس وقت نئے دفاعی اتحاد کو مستحکم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں اور اس کے عملی طریقہ کار اور ذمہ داریوں کا تعین بعد کے مراحل میں ہوگا۔

ان کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک چھتری نما معاہدہ ہے، جس کے تحت مختلف میکنزم تشکیل دینا ضروری ہوں گے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا اس کا بنیادی مقصد ہے۔

یہ وضاحت وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر حوثیوں کے ساتھ تنازع پھیل کر سعودی عرب کے لیے خطرہ بن گیا تو دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔

حوثیوں کے خلاف ممکنہ پاکستانی فوجی کارروائی سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ ایک مفروضہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان معاہدے کی شقوں کے مطابق عمل کرے گا، تاہم اس وقت اس نوعیت کی کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔

پاکستان نے سعودی عرب میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی ’’غیر متزلزل حمایت‘‘ کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے گزشتہ ماہ مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم اس کے مکمل عملی نفاذ کے لیے کمانڈ اسٹرکچر اور دیگر ادارہ جاتی میکنزم ابھی تشکیل پانا باقی ہیں۔

ترجمان نے افغانستان کے حوالے سے بھی کہا کہ پاکستان اسے دشمن نہیں بلکہ پڑوسی ملک سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق بنیادی مسئلہ سرحد پار دہشت گردی ہے، جبکہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔