اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی تحقیقاتی ٹیم کو ان پائلٹس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے رسائی دی جائے جن کے بارے میں تہران کا دعویٰ ہے کہ وہ قطر میں موجود ہیں، جبکہ ایرانی فوج نے امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرکے حوالے کرنے پر 30 ہزار ڈالر انعام دینے کا اعلان بھی کردیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے لاپتا افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے کمانڈر محمد باقرزادہ نے کہا کہ ایرانی فضائیہ اور تحقیقاتی ٹیم کئی ماہ سے قطر میں داخلے کی اجازت کی منتظر ہے۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے قطری حکام پر تحقیقات میں بار بار تاخیر اور پائلٹس کی واپسی روکنے کا الزام عائد کیا۔
قطر تاہم ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے کی تردید کرتا ہے۔ باقرزادہ نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کی فوری پیروی کرے۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے امریکی فوجی اہلکار کو ہلاک یا گرفتار کرکے ایرانی فوج کے حوالے کرنے والے شخص کے لیے 30 ہزار ڈالر یا 5 ارب ایرانی تومان انعام کا اعلان کیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق حاتمی نے کہا کہ یہ منصوبہ مالی معاونت میں حصہ لینے کے لیے آنے والی بڑی تعداد میں درخواستوں کے بعد تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایرانی خاتون امریکی فوجی کو ہلاک یا گرفتار کرکے حوالے کرتی ہے تو اسے دگنا انعام دیا جائے گا۔
حاتمی نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی فوجیوں کو ہدف بنانے کی توقع کہاں یا کب ہے۔
ایران میں جاری جنگ کے دوران امریکی زمینی افواج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی اطلاعات نہیں ہیں، تاہم اپریل میں ایک امریکی طیارہ گرنے کے بعد پائلٹ کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائی کی گئی تھی۔
ادھر سعودی عرب کے سول ڈیفنس حکام نے اتوار کو جازان صوبے میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا۔
