Trump admits to diverting secret plane from Turkey, 'I agreed when the security service asked

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ ترکی سے روانگی کے وقت امریکی سیکرٹ سروس اور فوج نے انہیں معمول کے بجائے ایک دوسرے طیارے میں سفر کرنے کی ہدایت کی تھی، جس کی وجہ سکیورٹی خدشات تھے۔

انادولو ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے منگل کو اوہائیو سے واپسی کے بعد میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ سیکرٹ سروس اور فوج نے کیا اور انہوں نے ان کی ہدایت پر عمل کیا۔

ٹرمپ نے کہا، یہ صرف سیکرٹ سروس پر منحصر ہے۔ میں وہی کرتا ہوں جو وہ مناسب سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں مختلف پرواز اور مختلف طیارہ استعمال کروں، جس میں سکیورٹی بھی اتنی ہی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کوئی خطرہ موجود ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات جاننے کی کوشش نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا، مجھے بہت سی دھمکیاں ملتی ہیں، بہت سی ایسی دھمکیاں بھی ہوتی ہیں جن کے بارے میں آپ نہیں جانتے۔

ان کے یہ ریمارکس واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے 7 اور 8 جولائی کو انقرہ میں نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد ترکی سے روانگی کے دوران پہلے نظر آنے والے ایئر فورس ون سے خفیہ طور پر ایک چھوٹے فوجی طیارے میں منتقل ہو کر سفر کیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ابتدا میں پرانے ایئر فورس ون پر سوار ہوئے تھے جسے انقرہ ایئرپورٹ پر میڈیا کے کیمروں نے ریکارڈ کیا۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد انہیں ایک کیٹرنگ گاڑی کے ذریعے دوسرے فوجی طیارے تک منتقل کیا گیا، جبکہ ایئر فورس ون پر وائٹ ہاؤس کے حکام، سکیورٹی اہلکار اور صحافی موجود رہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اس کارروائی کو مبینہ ایرانی قاتلانہ خطرے کے باعث ٹرمپ کی موجودہ پوزیشن کو خفیہ رکھنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صدر کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات کو محدود رکھنا تھا۔

ٹرمپ نے اس خطرے کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم کہا کہ ایک اہم امریکی صدر کو بہت سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، کوئی بھی اہم صدر بہت سی دھمکیوں کا سامنا کرتا ہے۔ غیر اہم صدور کو دھمکیاں نہیں ملتیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شاید وہ اس وقت ملک کے سب سے زیادہ مؤثر صدر ہیں اور تقریباً چھ سال کے عرصے میں کسی اور نے ان سے زیادہ کام نہیں کیا۔