اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ جنگ بندی منصوبے میں اہم پیش رفت کے اعلان کے باوجود غزہ کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں گزشتہ روز کم از کم 18 فلسطینی شہید ہو گئے، جس کے بعد مقامی شہریوں نے کہا ہے کہ زمینی حقائق ٹرمپ کے دعووں سے یکسر مختلف ہیں اور جنگ کے خاتمے کی امیدیں ایک بار پھر ماند پڑ گئی ہیں۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت حماس ہتھیار ڈال دے گی جبکہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی۔ تاہم چند ہی دنوں بعد دونوں فریقوں کے مؤقف میں شدید اختلاف سامنے آ گیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتی اور اس کی زیرزمین سرنگوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، اسرائیلی فوج غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ دوسری جانب حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیل پہلے حملے بند کرے، جنگ بندی کی شرائط پر مکمل عمل کرے اور فوج کو ان علاقوں سے واپس بلائے جن پر اس نے گزشتہ سال اکتوبر کے بعد قبضہ کیا، اس کے بعد ہی ہتھیاروں سے متعلق شق پر پیش رفت ممکن ہوگی۔
ادھر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے خصوصی ایلچی نکولے ملادینوف نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر حکام سے ملاقات کی۔ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ میں اسلحے کے مکمل خاتمے، عسکری حکمرانی کے بجائے سول انتظامیہ کے قیام اور جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے مرحلہ وار منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ بورڈ کے مطابق اسرائیلی فوج نام نہاد ییلو لائن سے اس وقت تک مکمل انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اپنی سرنگوں کے نیٹ ورک کو ختم نہیں کرتی۔
تاہم غزہ میں رہنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ 32 سالہ آیہ محمد زکی نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران تقریباً ہر گھنٹے بعد بمباری کی گئی اور شمالی، وسطی اور جنوبی غزہ میں کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہا۔ ان کے مطابق ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے جنگ بندی کا کوئی وجود ہی نہیں۔
فلسطینی طبی حکام کے مطابق اتوار کو شہید ہونے والوں میں غزہ سٹی میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں ایک میاں بیوی اور ان کا بچہ بھی شامل تھا، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مختلف مقامات پر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔
