Trump's long-term strategy Are the Revolutionary Guards losing their regional dominance in the Middle East

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں مصنف اشتیاق احمد لکھتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے اور اس کے بعد ایران پر امریکی فضائی کارروائیوں نے ایک بار پھر خطے کو ممکنہ بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عملاً غیر مؤثر قرار دینا بھی اس تناؤ کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ تاہم اگر موجودہ صورتحال کا وسیع تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ صرف ایک عارضی فوجی تصادم نہیں بلکہ ایک ایسی طویل المدتی امریکی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جس کا بنیادی مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ پاسدارانِ انقلاب  کے علاقائی اثرورسوخ کو بتدریج محدود کرنا ہے۔

ان کے مطابق یہ حکمتِ عملی موجودہ بحران سے شروع نہیں ہوئی بلکہ اس کی بنیاد 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد پڑی۔ اس کے بعد رونما ہونے والی جنگوں، پراکسی تنازعات، سفارتی سرگرمیوں اور بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دی۔ اس پورے عرصے پر نظر ڈالیں تو ایک نمایاں رجحان سامنے آتا ہے کہ آئی آر جی سی وہ تزویراتی ذرائع آہستہ آہستہ کھو رہی ہے جن کے ذریعے وہ برسوں سے خطے کی سیاست اور سلامتی پر اثر انداز ہوتی رہی۔

اس تبدیلی کی تازہ مثال آبنائے ہرمز ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جنگ کے بعد طے پانے والے فریم ورک کے تحت اسے اپنی سمندری حدود میں جہاز رانی کے انتظامات کا اختیار حاصل ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس تشریح کو مسترد کرتے ہوئے آزادیٔ جہاز رانی کو بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی اور قطری تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد واشنگٹن نے صرف جوابی کارروائی تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایران کی بحری، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو بھی نشانہ بنایا، جنہیں آبنائے ہرمز میں عالمی تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

مصنف کے مطابق آبنائے ہرمز صرف ایک محاذ ہے۔ موجودہ تنازع کے آغاز میں آئی آر جی سی کے پاس خطے میں کئی اہم تزویراتی کارڈ موجود تھے، مگر وقت کے ساتھ ان میں سے بیشتر کمزور پڑتے گئے۔ حماس کی عسکری صلاحیت متاثر ہوئی، لبنان میں حزب اللہ بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے، جبکہ شام میں بشار الاسد کے بعد پیدا ہونے والی نئی سیاسی صورتحال نے بھی ایران کے اثرورسوخ کو محدود کر دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ بھی اسی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد دمشق کو دوبارہ علاقائی دھارے میں شامل کرنا اور ایران کی روایتی تزویراتی راہداری کو کمزور کرنا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ خلیجی خطے میں بھی طاقت کا توازن بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ایران نے یہ تاثر دیا تھا کہ وہ بیک وقت کئی خلیجی ممالک کو دباؤ میں لا سکتا ہے، لیکن بعد ازاں سفارت کاری اور دفاعی تعاون نے اس گنجائش کو محدود کر دیا۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھایا، قطر ایک ممکنہ ہدف سے تبدیل ہو کر اہم سفارتی رابطہ بن گیا، جبکہ عمان نے مسلسل مذاکرات کی حمایت جاری رکھی۔ ان پیش رفتوں نے ایران کے لیے خلیجی ریاستوں پر دباؤ ڈالنے کی سیاسی اور عسکری قیمت میں نمایاں اضافہ کر دیا۔

مصنف کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی حکمتِ عملی میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل اس بحران کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے موقع کے طور پر دیکھتا رہا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے نسبتاً مختلف راستہ اختیار کیا۔ واشنگٹن نے اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ایک طویل، مہنگی اور غیر یقینی جنگ کا تقاضا کرے گی، اس لیے اس کے بجائے آئی آر جی سی کے ان تمام ذرائع کو کمزور کیا جائے جن کے ذریعے وہ کئی دہائیوں سے خطے میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھے ہوئے ہے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کا سب سے اہم تزویراتی ہتھیار ہے، لیکن یہاں بھی اس کے لیے گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی بحری موجودگی، تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے بڑھتے ہوئے اقدامات، ایرانی بحری تنصیبات پر حملے اور آزادیٔ جہاز رانی کے حق میں عالمی حمایت نے ہر نئی ایرانی کارروائی کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دی ہے۔ اب ہر حملہ نہ صرف سخت عسکری ردعمل کو دعوت دیتا ہے بلکہ خود ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مزید نقصان پہنچاتا ہے۔

لبنان اور شام میں بھی یہی رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ حزب اللہ اگرچہ اب بھی ایران کا اہم اتحادی ہے، لیکن لبنان کے نئے سکیورٹی انتظامات، اسرائیلی دباؤ اور شام کی بدلتی سیاسی سمت نے اس کے لیے پہلے جیسی آزادی باقی نہیں رہنے دی۔ ترکی، عرب ممالک اور مغربی طاقتوں کی دمشق کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں بھی اسی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مقصد شام کو دوبارہ علاقائی نظام کا حصہ بنانا اور ایران کے اثرورسوخ کو محدود کرنا ہے۔

اشتیاق احمد کے مطابق پاکستان نے بھی اس پورے بحران میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ قطر، سعودی عرب، ترکی اور ایران کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے اسلام آباد نے کشیدگی کو وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ اگرچہ پاکستان اس تنازع کا براہِ راست فریق نہیں، تاہم اس کی سفارتی سرگرمیوں نے خطے میں رابطوں اور مذاکرات کے عمل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم مصنف اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اب بھی غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک ایران کی بعض علاقائی سرگرمیوں پر تحفظات رکھتے ہیں، لیکن وہ اسرائیل کے وسیع تر علاقائی ایجنڈے کی مکمل حمایت سے گریز کرتے ہیں اور خطے میں استحکام کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔

مصنف کے مطابق موجودہ کشیدگی کو صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اور فوجی تصادم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے جاری ایک وسیع تر تزویراتی مقابلے کا حصہ ہے۔ جوں جوں آئی آر جی سی کے روایتی ذرائعِ اثر محدود ہوتے جا رہے ہیں، وہ اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے مزید محدود نوعیت کی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن ہر نئی کارروائی عالمی برادری اور علاقائی طاقتوں کے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ ایران کو ان ذرائع سے محروم کیا جائے۔

اشتیاق احمد کے مطابق یہی دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی لانگ گیم ہے۔ یہ حکمتِ عملی اسرائیل کے پسندیدہ فوجی حل کے مقابلے میں نسبتاً سست، سفارت کاری پر زیادہ انحصار کرنے والی اور طویل المدتی ضرور ہے، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک کے مجموعی حالات کا جائزہ لیا جائے تو واضح اشارے یہی ملتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ بتدریج ایسے علاقائی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں پراکسی جنگ، طاقت کے زور پر دباؤ اور عالمی تجارت کو یرغمال بنانے کی روایتی حکمتِ عملی پہلے جیسی مؤثر نہیں رہی۔ مصنف کے مطابق یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جس نے آئی آر جی سی کے علاقائی کردار اور اس کی تزویراتی گنجائش کو پہلے کے مقابلے میں نمایاں حد تک محدود کر دیا ہے۔