اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق چین نے بحرالکاہل میں اپنی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس کے بعد جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور تائیوان سمیت خطے کے کئی ممالک نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی نیوی کی ایک اسٹریٹجک جوہری آبدوز نے ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل فائر کیا، جس میں تربیتی مقصد کے لیے فرضی وار ہیڈ نصب تھا۔ میزائل پہلے سے طے شدہ بین الاقوامی سمندری علاقے میں اپنے ہدف پر کامیابی سے جا گرا۔
اگرچہ چین نے میزائل کی قسم ظاہر نہیں کی، تاہم سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک عسکری ماہر کے حوالے سے بتایا کہ غالب امکان ہے کہ یہ جے ایل 3 سب میرین لانچڈ بیلسٹک میزائل تھا، جسے چین کا جدید ترین آبدوز سے داغا جانے والا میزائل تصور کیا جاتا ہے اور جسے پہلی بار گزشتہ سال فوجی پریڈ میں پیش کیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ دفاع کی سابقہ رپورٹ کے مطابق جے ایل -3 میزائل چین کے ساحلی علاقوں سے فائر کیے جانے کی صورت میں امریکا کے براعظمی حصے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چینی حکومت نے اس تجربے کو سالانہ فوجی مشقوں کا معمول کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد کسی مخصوص ملک یا ہدف کو پیغام دینا نہیں تھا۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ میزائل لانچ مکمل طور پر محفوظ، منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا گیا، جبکہ متعلقہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین نے ستمبر 2024 میں بھی ایک نادر بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرتے ہوئے اسے فرانسیسی پولینیشیا کی سمت فائر کیا تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ میزائل تجربہ چین کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت اور بحرالکاہل میں اس کی اسٹریٹجک موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس پر خطے کے ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
