اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ایرانی وفد آئندہ چند روز میں پاکستان کا دورہ کرے گا، جسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ ایران اور امریکہ کے ممکنہ بالواسطہ مذاکرات کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد اسلام آباد پہنچیں گے۔ ان کے ہمراہ وزارتِ خارجہ، زراعت، صنعت، تجارت، سڑک و شہری ترقی، ثقافتی ورثہ، سیاحت اور دیگر اہم شعبوں کے اعلیٰ حکام بھی پاکستان آئیں گے۔
سرکاری طور پر اس دورے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی روابط، ٹرانسپورٹ، عوامی روابط اور دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینا بتایا جا رہا ہے، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس دورے کی سیاسی اور سفارتی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں دوحہ اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کے بعد تہران آئندہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک موزوں مقام سمجھتا ہے۔ پاکستان کے ایران، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ متوازن تعلقات اور حالیہ سفارتی کردار کو اس اعتماد کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ دوحہ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم مستقبل میں اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
سفارتی مبصرین کے مطابق ایرانی وفد کا آئندہ دورہ صرف ایک معمول کا دوطرفہ دورہ نہیں بلکہ خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے، اور اگر ایران امریکہ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوتا ہے تو پاکستان کا علاقائی سفارتی کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
