White House releases new report on origin of coronavirus, bolsters lab leak theory, raises serious questions about Fauci, Wuhan lab and WHO

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) وائٹ ہاؤس نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر لیب لیک: کوویڈ-19 کی حقیقی ابتدا کے عنوان سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس اوور سائٹ اینڈ اکاونٹیبلٹی کمیٹی کی کورونا وبا سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کے اہم نکات جاری کیے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کووڈ-19 کی سب سے زیادہ ممکنہ ابتدا چین کے شہر ووہان میں قائم ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی سے ہونے والے ممکنہ لیبارٹری حادثے سے ہوئی، جبکہ قدرتی طور پر وائرس کے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے حق میں اب تک کوئی فیصلہ کن ثبوت سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ کے مطابق وائرس میں ایسی حیاتیاتی خصوصیات موجود تھیں جو قدرتی طور پر پائے جانے والے کورونا وائرسز سے مختلف تھیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تمام کیسز ایک ہی ذریعے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ماضی کی بڑی وباؤں میں وائرس مختلف مواقع پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وائرس واقعی قدرتی طور پر پیدا ہوا ہوتا تو اس کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد اب تک سامنے آ چکے ہوتے۔

کمیٹی نے ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کو اپنی تحقیقات کا مرکزی نکتہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں گین آف فنکشن ریسرچ کی جاتی رہی، جس میں وائرس کی جینیاتی خصوصیات تبدیل کر کے اس کی صلاحیتوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کے دوران حفاظتی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مزید یہ دعویٰ کیا گیا کہ ووہان لیب کے چند محققین 2019 کے آخر میں کورونا جیسی علامات کا شکار ہوئے تھے، جو وبا کے باضابطہ آغاز سے پہلے کا عرصہ تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں معروف سائنسی مقالے سارس-سی او وی-2 کی قربت کی اصل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اس مقالے کو اس تاثر کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا گیا کہ وائرس کی ابتدا قدرتی تھی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس عمل میں سابق امریکی طبی مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کردار بھی زیر سوال آیا اور بعد میں یہی مقالہ لیب لیک تھیوری کو مسترد کرنے کے لیے بار بار حوالہ بنایا جاتا رہا۔

رپورٹ میں ایکو ہیلتھ الائنس اور اس کے سابق سربراہ ڈاکٹر پیٹر ڈاسزک پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق امریکی فنڈنگ ووہان میں ہونے والی متنازع تحقیق تک پہنچی، جبکہ تحقیقات کے دوران تنظیم نے مکمل تعاون نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہی شواہد کے بعد امریکی محکمہ صحت نے تنظیم کے خلاف کارروائی شروع کی، جبکہ محکمہ انصاف بھی اس کے کردار کی تحقیقات کر رہا ہے۔

اسی طرح نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے نگرانی کے نظام کو بھی ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ خطرناک تحقیق کی نگرانی میں خامیاں رہیں اور بعض سرکاری ریکارڈ محفوظ رکھنے کے قوانین پر بھی مکمل عمل نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر فاؤچی کے سابق مشیر ڈاکٹر ڈیوڈ مورینز پر بھی کانگریس کو گمراہ کرنے، وفاقی ریکارڈ حذف کرنے اور غیر سرکاری معلومات شیئر کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

کمیٹی نے بائیڈن انتظامیہ کے محکمہ صحت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تحقیقات میں تاخیر، محدود تعاون اور ضروری دستاویزات کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس رویے سے تحقیقات متاثر ہوئیں اور بعض اہم شواہد بروقت سامنے نہ آ سکے۔

رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ وبا کے دوران ادارہ چین کے دباؤ سے آزاد ہو کر مؤثر کردار ادا نہ کر سکا اور اس کی بعض پالیسیاں عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہیں۔

کورونا وبا کے دوران اختیار کی گئی کئی عوامی صحت کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چھ فٹ سماجی فاصلے کی ہدایت مضبوط سائنسی شواہد پر مبنی نہیں تھی، جبکہ ماسک سے متعلق سرکاری مؤقف بھی مختلف اوقات میں تبدیل ہوتا رہا، جس سے عوامی اعتماد متاثر ہوا۔ اسی طرح طویل لاک ڈاؤن کو معیشت، تعلیمی نظام، چھوٹے کاروبار اور عوامی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کومو کی کورونا پالیسیوں پر بھی رپورٹ میں تنقید کی گئی ہے۔ کمیٹی کے مطابق کووڈ مریضوں کو نرسنگ ہومز میں منتقل کرنے کا فیصلہ سنگین غلطی تھا اور بعد ازاں اس کے نتائج کو چھپانے کی کوشش بھی کی گئی۔

رپورٹ میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وبا کے دوران لیب لیک تھیوری اور دیگر متبادل آرا کو سوشل میڈیا اور سرکاری بیانیے کے ذریعے محدود کیا گیا، جس سے آزاد سائنسی بحث متاثر ہوئی۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ عوام کو مکمل معلومات فراہم کرنے کے بجائے بعض بیانیوں کو ترجیح دی گئی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے اس مواد میں کہا گیا ہے کہ ان تحقیقات کا مقصد صرف کورونا کی اصل جاننا نہیں بلکہ مستقبل میں ایسی وباؤں سے نمٹنے کے لیے تحقیق، نگرانی اور قومی سلامتی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا بھی ہے۔

تاہم چین، عالمی ادارۂ صحت اور متعدد بین الاقوامی سائنس دان اب بھی لیب لیک تھیوری کو حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں مانتے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کورونا وائرس کی اصل کے بارے میں فیصلہ کن نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید آزاد اور شفاف سائنسی تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اس لیے امریکی کانگریس کی یہ رپورٹ اگرچہ لیب لیک تھیوری کو تقویت دیتی ہے، تاہم عالمی سائنسی برادری میں اس معاملے پر اب بھی مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔