US bolsters Ukraine's defense; approves sale of 500 Patriot missiles

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق امریکی حکومت نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کے ممکنہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس سے روسی حملوں کے مقابلے میں یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم اس مجوزہ فروخت کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اس ممکنہ معاہدے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت یوکرین کو پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے میزائل فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

 ان میں جدید پی اے سی تھری انٹرسیپٹرز بھی شامل ہیں، جو دشمن کے میزائلوں اور دیگر فضائی خطرات کو روکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میزائلوں کی فراہمی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو فوری دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے اتحادی ممالک کے موجودہ ذخائر سے میزائل فراہم کیے جانے چاہئیں، جبکہ بعد میں ان ممالک کے ذخائر نئے میزائلوں کے ذریعے پورے کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس ممکنہ فروخت کے اخراجات امریکا خود برداشت نہیں کرے گا بلکہ اتحادی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ مالی تعاون کے ذریعے اس کی ادائیگی کی جائے گی۔

 اس طرح واشنگٹن کے لیے براہ راست مالی بوجھ ڈالے بغیر یوکرین کی دفاعی صلاحیت میں اضافے کا راستہ کھل سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین اور امریکا کے تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران بعض معاملات پر تناؤ بھی دیکھا گیا۔ ان میں امریکا اور روس کے درمیان ڈیزل کی فروخت سے متعلق معاہدہ، یوکرین میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک رسائی اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے جیسے معاملات شامل تھے۔

تاہم 20 اکتوبر کو اوسلو میں ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار سامنے آئے تھے۔

پیٹریاٹ میزائل یوکرین کے لیے اہم دفاعی ضرورت ہیں کیونکہ روس کی جانب سے میزائل اور فضائی حملوں کے باعث ملک کے اہم شہروں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔

 مجوزہ معاہدے کی حتمی منظوری اور عملی فراہمی کا وقت اب بھی اہم سوالات ہیں۔