Three oil tankers hit by fires and explosions in the Strait of Hormuz; Iran claims they struck sea mines.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی سلامتی کو ایک بار پھر خطرات لاحق ہو گئے ہیں جہاں ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے تین آئل ٹینکروں میں آگ لگنے اور دھماکوں کا دعویٰ کیا ہے۔

 دوسری جانب برطانوی میری ٹائم حکام نے علاقے میں ایک جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ تین ٹینکروں کو غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی کوشش کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

 ایرانی دعوے کے مطابق ان میں ایک ایسا سپر ٹینکر بھی شامل ہے جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل موجود تھا اور وہ مبینہ طور پر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔ تاہم رائٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

برطانیہ کے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ جزیرہ لاوان سے تقریباً 40 ناٹیکل میل، یعنی 74 کلومیٹر جنوب میں ایک جہاز نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرایا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔

 حکام کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ رہا اور واقعے کے نتیجے میں سمندر میں آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یو کے ایم ٹی او کی جانب سے رپورٹ کیا گیا جہاز ایرانی دعوے میں شامل تین ٹینکروں میں سے ایک ہی تھا یا کوئی دوسرا جہاز تھا۔

ایران نے اس دوران دعویٰ کیا کہ اس نے جزیرہ قشم کے قریب امریکی ایم کیو ایم 170 ڈرون کو مار گرایا اور ایک بغیر عملے کے امریکی بحری جہاز کو بھی تباہ کر دیا۔

 ڈرون سے متعلق ایرانی دعوے پر امریکا کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ رائٹرز بھی اس واقعے کی تصدیق نہیں کر سکا۔

تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے بغیر عملے کے بحری جہاز کی تباہی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ کے تمام بغیر عملے کے سطحی جہاز محفوظ ہیں۔

 کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز میں گشت کرنے والے جدید سمندری ڈرونز سمیت تمام متعلقہ جہازوں کا حساب موجود ہے۔