Hopes for progress in Pakistan’s mediation efforts; DG ISPR delivers an important message for the region.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرانے کی سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے حوالے سے محتاط امید ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض طاقتور عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو راولپنڈی میں انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے، تاہم اس عمل میں ممکنہ رکاوٹوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا تازہ ترین دورہ پیر کو ہوا، جس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن بھی ان کے ہمراہ تھے۔

 ان دوروں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی حوالہ دیا۔ اس معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

 ان کے مطابق معاہدے کی شرائط میں نئے ارکان کی شمولیت پر پابندی نہیں، لہٰذا مشترکہ وژن کی صورت میں ایران بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم اس بارے میں فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی۔

سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار حالات اور سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔

 پاکستان سعودی عرب اور مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان یمن کے داخلی تنازع میں فریق نہیں ہے۔

انٹرویو میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔ صوبے میں 11 اکتوبر کو ایمرجنسی کے نفاذ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حراست کے بعد سیاسی کشیدگی بڑھی ہے۔

 وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی انتظامیہ عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکام رہی، جبکہ تحریک انصاف اسے احتجاجی سرگرمیاں دبانے کا بہانہ قرار دیتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کی رفتار بڑھائی جائے گی۔ انہوں نے فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کے تاثر کی بھی تردید کی۔