Trump rejects Iran's 7-day Hormuz plan; fear of renewed conflict.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری لڑائی روکنے کے لیے پیش کیے گئے سات روزہ منصوبے کو مسترد کردیا ہے، جبکہ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن تک اپنا منصوبہ پہنچایا ہے۔

 تجویز کے مطابق امریکا شرائط پوری کرے تو سات روزہ ٹائم لائن شروع ہوگی، جس کے اختتام پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور خطے میں وسیع پیمانے پر جاری لڑائی روکنے کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے۔

ایران نے امریکا سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد اثاثے جاری کرنے اور ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کو مثبت اور تعمیری قرار دیا گیا ہے، تاہم ٹرمپ کو مبینہ طور پر اس بات پر شکوک ہیں کہ ایران امریکی مطالبات تسلیم کرے گا۔ رائٹرز کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

یہ تنازع 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے خلیجی ممالک میں ڈرون اور میزائل حملے، یمن میں حوثی کارروائیاں اور لبنان میں حزب اللہ کی اسرائیل کے ساتھ جھڑپیں جاری رہیں۔

ادھر ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی حکام نے بھی ملاقات کرکے انٹیلی جنس شیئرنگ، عسکری رابطوں اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کے انضمام پر تبادلہ خیال کیا ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث یمن میں انسانی بحران بھی سنگین ہونے کی اطلاعات ہیں۔