اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرزکی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات جاری ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان مفید بات چیت ہو رہی ہے اور واشنگٹن امریکی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
امریکا اور اسرائیل نے فروری میں ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ اس جنگ نے خطے میں کشیدگی بڑھانے کے ساتھ امریکی سیاست اور معیشت پر بھی دباؤ ڈالا ہے۔ ریپبلکن پارٹی نومبر کے انتخابات میں کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رائٹرز کے حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد امریکی شہری ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی سے ناخوش ہیں۔ ان میں ریپبلکن ووٹرز کا ہر چار میں سے ایک فرد بھی شامل ہے۔ جنگ کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات ووٹرز کی بڑی پریشانیوں میں شامل ہیں۔
ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ انتخابات کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہوجائیں گی، تاہم انہوں نے جنگ ختم کرنے یا امریکی فوجی کارروائیوں سے نکلنے کا تفصیلی منصوبہ پیش نہیں کیا۔
ادھر امریکا اور ایران نے حالیہ ہفتوں میں جنگ کے خاتمے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے تہران کی تازہ پیشکش مسترد کردی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران یورینیم کی افزودگی ترک کرنے یا اپنے یورینیم کے ذخیرے کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے پر آمادہ نہیں۔ یہ مؤقف ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہوگی۔
امریکا، اسرائیل اور مغربی اتحادی ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہیں، تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
