اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے پاس ایسا کرنے کی صورت میں بہت کچھ کھونے کا خدشہ ہوگا اور امریکا کو اس بارے میں جلد معلوم ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر بیجنگ اور ماسکو تہران کی مدد کر بھی رہے ہیں تو یہ بہت محدود سطح پر ہوگی، تاہم انہیں یقین نہیں کہ ایسا ہو رہا ہے۔
جولائی میں بھی ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے مئی میں چین میں ملاقات کے دوران انہیں یقین دہانی کرائی کہ بیجنگ کسی بھی صورت ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا، حتیٰ کہ چینی کمپنیوں کے ذریعے بھی نہیں۔ ان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی ایران کو ہتھیار فروخت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
مئی میں امریکا نے متعدد چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ واشنگٹن کا الزام تھا کہ ان کمپنیوں نے ایران کے فوجی خریداری نیٹ ورک کی مدد کی اور ایسی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کیں جن سے مبینہ طور پر امریکی فورسز کو نشانہ بنانے میں مدد ملی۔ بیجنگ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ آر اے ایف فیئر فورڈ فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کا ایران میں مربوط ہونا ’انتہائی ممکن‘ اور اس کی ہدایت ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دیے جانے کا امکان تقریباً یقینی ہے۔
27 ستمبر کو اڈے کے قریب پانچ برطانوی مردوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں بعد میں سخت شرائط کے ساتھ پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ دو مزید گرفتار افراد، جن میں ایک برطانوی ایرانی شہری بھی شامل تھا، بھی رہا ہوئے۔ پولیس کے مطابق ضبط شدہ وینوں سے پیٹرول ملا، تاہم قابلِ استعمال دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمان کو بتایا کہ ایران میں موجود ایک نامعلوم شخص کے اس معاملے کے پیچھے ہونے کا شبہ ہے۔ برنہم نے ایرانی نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔
ایران نے سازش میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے برطانیہ سے شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تقریباً 30 ممالک نے بھی ایران سے منسوب مبینہ پرتشدد کارروائیوں، تخریب کاری اور سائبر حملوں کی مذمت کی ہے۔ برطانیہ کے مطابق گزشتہ سال ملک میں قتل یا اغوا کی 20 ایرانی حمایت یافتہ مبینہ دھمکیاں سامنے آئی تھیں۔ تہران ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
