اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق سعودی عرب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف نئے فوجی آپریشن کی تیاری کررہا ہے، جس کا ایک اہم مقصد بحیرہ احمر کے اہم تجارتی راستے باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول ختم کرنا ہے۔
رائٹرز نے علاقائی اور مغربی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ کارروائی آئندہ ہفتوں میں شروع ہوسکتی ہے۔ زمینی کارروائی سعودی عرب کی نگرانی میں یمنی فورسز کریں گی جبکہ انہیں سعودی فضائی حملوں کی مدد حاصل ہوگی۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب دو آپشنز پر غور کررہا ہے۔ پہلے آپشن کے تحت باب المندب کے گرد محدود کارروائی کی جائے گی، جبکہ دوسرے میں البیضا، مارب، تعز اور الجوف سمیت یمن کے متعدد محاذوں پر بیک وقت حملے شامل ہوسکتے ہیں۔
کارروائی کے پیمانے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجی متحرک کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم حملے کے حتمی وقت کا فیصلہ نہیں ہوا اور ذرائع نے ممکنہ آغاز کیلئے ایک ہفتے سے نومبر کے اوائل میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مختلف اندازے دیے ہیں۔
باب المندب بحیرہ احمر کا جنوبی داخلی راستہ ہے اور بحیرہ روم اور ایشیا کے درمیان اہم عالمی شپنگ روٹ سمجھا جاتا ہے۔ ہرمز کی صورتحال کے باعث اس راستے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرلیا، جس کے بعد ریاض کو خدشہ ہے کہ اس راستے پر حوثیوں کا قبضہ انہیں عالمی تجارت پر اثرانداز ہونے کیلئے اہم طاقت فراہم کرتا ہے۔
امریکا سعودی کارروائی کیلئے انٹیلی جنس اور فوجی مشاورت فراہم کررہا ہے، تاہم براہ راست فضائی حملوں میں شامل ہونے کے بارے میں واشنگٹن کا مؤقف محدود ہے۔
پاکستان اور ترکیہ نے بھی سعودی عرب کو دفاعی سازوسامان فراہم کیا ہے۔ ایک پاکستانی حکام کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان نے چار کارگو طیاروں کے ذریعے ایئر ڈیفنس سسٹمز، ہلکی توپخانہ، ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز عدن بھیجے۔
ایک اور پاکستانی عہدیدار کے مطابق سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار پاکستانی فوجی سرحدی دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں سے نمٹنے میں مدد کیلئے تعینات ہیں، تاہم پاکستان نے یمن کے اندر جنگی کارروائی کیلئے فوج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
فرانس نے بھی سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے شہر ینبع کے دفاع کیلئے دفاعی نظام اور فوجی اہلکار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
