Processions and gatherings across the country on Ashura Day, more than 100,000 personnel deployed for security

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں یوم عاشور ملک بھر میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر چھوٹے بڑے جلوس اور مجالس منعقد کی جا رہی ہیں جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔

کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے اپنے روایتی راستوں پر روانہ ہوا اور امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں پر اختتام پذیر ہوگا۔ سکیورٹی کے لیے شہر بھر میں 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ صرف مرکزی جلوس پر 6 ہزار 500 اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ جلوس کے راستوں پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل کیے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

راولپنڈی میں مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا اختتام پذیر ہوگا۔ سکیورٹی کے لیے 5 کمپنی فوج، 7 کمپنی رینجرز اور 8 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ جلوس کے راستوں پر سنائپرز، سی سی ٹی وی نگرانی، جسمانی تلاشی اور خصوصی چیکنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق راولپنڈی میں محرم کے دوران 475 جلوس اور 2 ہزار 201 مجالس منعقد ہوں گی، جن کی نگرانی پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اور مرکزی کنٹرول روم سے کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی کے لیے دو ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے اور خصوصی موبائل ایپ بھی استعمال کی جا رہی ہے۔

پنجاب بھر میں تین سطحی سکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد پولیس اہلکار، 61 کمپنی فوج، 76 کمپنی رینجرز اور 30 ہزار سے زائد رضاکار سکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ جدید نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت ، باڈی کیمرے، 5,600 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے اور ایک ہزار سے زیادہ 4G ایونٹ کیمرے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں 43 ہزار 317 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ صرف پشاور میں 12 ہزار اہلکار عاشورہ کے جلوسوں کی سکیورٹی سنبھالے ہوئے ہیں۔ صوبے میں 907 جلوس نکالے جا رہے ہیں جبکہ 614 امام بارگاہوں میں سے 127 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ جلوسوں کی نگرانی سیف سٹی کیمروں، بم ڈسپوزل یونٹس، سنائپرز اور سادہ لباس اہلکاروں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں بھی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں 32 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جبکہ صرف کوئٹہ میں 17 ہزار اہلکار مرکزی جلوس کی سکیورٹی پر مامور ہیں۔ جلوس کے راستوں پر فضائی نگرانی، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور موبائل فون و انٹرنیٹ سروس کی عارضی معطلی سمیت خصوصی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں۔