President Zardari approves appointment of judges in high courts, ending weeks of deadlock

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے ملک کی پانچوں ہائی کورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تقرری اور بعض ججز کی مستقل حیثیت کی منظوری دے دی، جس کے بعد صدر مملکت اور حکومت کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری تعطل ختم ہوگیا۔

ایوان صدر کے مطابق صدر زرداری نے لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دی۔ انہوں نے لاہور اور سندھ ہائی کورٹس کے بعض ایڈیشنل ججز کی مستقل ججز کے طور پر توثیق بھی کردی۔

صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دی، جو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی۔ جوڈیشل کمیشن نے 20 اور 21 جولائی کو ججز کی تقرری اور توثیق کی سفارشات کی تھیں، تاہم صدر کی منظوری نہ ہونے کے باعث معاملہ کئی ہفتوں سے زیر التوا تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کی مستقل حیثیت کی توثیق، سندھ ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کے لیے 6 ماہ کی توسیع اور لاہور، اسلام آباد، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس میں مجموعی طور پر 19 ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔

منظوری میں تاخیر کے باعث عدالتی امور بھی متاثر ہوئے۔ پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل ججز کی مدت 4 اگست کو ختم ہوگئی تھی، جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مدت 29 جولائی کو مکمل ہونے کے بعد وہ عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

اس دوران حکومت اور صدر کے قانونی ماہرین کے درمیان آئینی اختیار اور صدر کی جانب سے سمری پر کارروائی کی مدت کے حوالے سے اختلاف سامنے آیا۔ حکومتی حلقوں نے آرٹیکل 48(1) کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صدر کو سمری پر مقررہ مدت میں کارروائی کرنی چاہیے، جبکہ ایوان صدر کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 175-اے میں صدر کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں۔

اسی معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی صدر کی منظوری میں تاخیر کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے پیر کو درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

دریں اثنا صدر زرداری نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے کی بھی منظوری دی۔ انہوں نے ہائی کورٹ ججز کی چھٹی، پنشن اور مراعات سے متعلق 1997 کے حکم میں ترامیم کی منظوری دی، جبکہ ہارون اختر کی وزیراعظم کے صنعت و پیداوار کے مشیر کے طور پر تقرری بھی منظور کرلی۔