اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے حریف گادی آئزن کوٹ نے بدھ کو حکومت بنانے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا اعلان کیا، تاہم ابتدائی ایگزٹ پولز میں کسی بھی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دی۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد ہونے والے ان انتخابات میں دونوں کیمپوں کے درمیان سخت مقابلہ سامنے آیا ہے۔
منگل کو ہونے والی ووٹنگ میں تقریباً 78 فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا، جو 1999 کے بعد بلند ترین شرح ہے۔ انتخابات کو نیتن یاہو کی طویل اور متنازع حکمرانی کے بارے میں عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
تین بڑے اسرائیلی ٹی وی نیٹ ورکس کے ابتدائی اندازوں کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد اور آئزن کوٹ کے اپوزیشن بلاک کو تقریباً 51، 51 نشستیں مل سکتی ہیں۔ 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں ضروری ہیں۔
نیتن یاہو نے یروشلم میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے دائیں بازو کی مضبوط حکومت اور یہودی و صہیونی اکثریت کے اتحاد پر زور دیا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا موقع ملنے کی بات بھی کی، جس سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا امکان ظاہر ہوا۔
سابق فوجی سربراہ آئزن کوٹ نے تل ابیب میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور ایک باوقار رہنما کو عوامی عدم اعتماد تسلیم کرنا چاہیے۔ آئزن کوٹ نے جلد حکومت بنانے کی کوشش کرنے اور دوبارہ انتخابات سے بچنے پر زور دیا۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق عرب اسرائیلی جماعتوں کو 17 سے 18 نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب رہنما منصور عباس نے آئزن کوٹ کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم آئزن کوٹ انتخابی مہم کے دوران عرب ارکان کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔
عرب جماعتیں پارلیمانی ووٹنگ میں کسی اقلیتی حکومت کی حمایت کر سکتی ہیں، لیکن ان کے کردار پر سیاسی اختلاف برقرار ہے۔
انتخابات ایسے وقت ہوئے جب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، مغربی کنارے میں آبادکاری اور تشدد کے باعث اسرائیل کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
نیتن یاہو کو غزہ سے متعلق عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ اور اندرون ملک بدعنوانی کے مقدمات کا بھی سامنا ہے۔ اگر کوئی اتحاد مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو ملک میں نئے انتخابات کا امکان باقی رہے گا۔
