اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق خلیجی جنگ نے دبئی میں پاکستانی سرمایہ کاری کے رجحان کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے، جہاں پاکستان سے جانے والی غیر قانونی رقوم کا سلسلہ رکنے کے ساتھ دبئی میں پہلے سے موجود سرمایہ بھی واپس ملک منتقل کیا جا رہا ہے۔ پراپرٹی اور کرنسی مارکیٹ سے وابستہ ذرائع کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ پر پاکستانی سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور رقوم کا رخ دوبارہ پاکستان کی جانب ہوگیا ہے۔
ہزاروں پاکستانی دبئی میں بالخصوص پراپرٹی کے شعبے میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکے ہیں۔ پاکستان دو مرتبہ دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں دوسرا سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار بھی رہ چکا ہے۔
اس دوران یہ تاثر مضبوط رہا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی غیر قانونی دولت دبئی میں محفوظ ٹھکانہ حاصل کرتی ہے اور وہاں پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم سبب بنتی ہے۔
آل پاکستان بلڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حسن بخش نے بتایا کہ پاکستان میں ماہانہ تقریباً 60 ملین ڈالر کی غیر قانونی یا بلیک منی پیدا ہوتی ہے جو ماضی میں دبئی منتقل کی جاتی تھی، تاہم موجودہ جنگی صورتحال کے بعد یہ سلسلہ رک گیا ہے۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق دبئی میں موجود غیر قانونی رقوم بھی پھنس گئی ہیں اور انہیں واپس حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دبئی سے پاکستان آنے والی ترسیلات میں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی اپنے مائع اثاثے واپس ملک منتقل کر رہے ہیں۔
حسن بخش کے مطابق خلیجی جنگ شروع ہونے کے بعد کراچی کے ڈیفنس میں پراپرٹی کی قیمتیں 50 سے 60 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ ان کے بقول ڈیفنس میں پراپرٹی کے ٹائٹل نسبتاً محفوظ ہونے، ڈبل فائلنگ اور جعلی ڈیلنگ جیسے مسائل نہ ہونے کی وجہ سے واپس آنے والی رقوم کا بڑا حصہ اسی علاقے میں لگایا جا رہا ہے۔
جنگ سے قبل متعدد پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی کاروباری ماحول کو آسان سمجھتے ہوئے دبئی منتقل ہوئی تھیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے مسائل اور ٹیکس حکام کی مبینہ مداخلت بھی کمپنیوں کے بیرون ملک جانے کی وجوہات میں شامل رہی ہیں۔
متعدد پاکستانی دبئی کو تیسرے ملک کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بھارت اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کے ساتھ قانونی کاروبار بھی کررہے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں انہیں اپنی سرمایہ کاری واپس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد خلیج سے مزید کروڑوں ڈالر پاکستان واپس آسکتے ہیں کیونکہ دبئی غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔
