Narowal temple case Pakistan strongly reacts to India's allegations, calls the claim false

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ نے نارووال میں ہندو مندر سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے دعووں کو جھوٹا اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت حقائق کو مسخ کرکے ’سستی چالیں‘ چل رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے نارووال کے مندر سے متعلق الزامات کو واضح طور پر مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نارووال کے مندر کے حوالے سے بھارت کے جھوٹے اور سیاسی مقاصد پر مبنی دعووں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔

پاکستانی حکومت کے مطابق نارووال کے گاؤں سراج میں واقع ایک صدی سے زائد قدیم مندر 21 جولائی کو شدید بارشوں کے نتیجے میں متاثر اور منہدم ہوا تھا۔

تاہم ایک اقلیتی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ مندر کی عمارت کو جان بوجھ کر مسمار کیا گیا تاکہ اس سے ملحق مدرسے کی توسیع کی جاسکے۔

بعد ازاں بھارتی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر بیان جاری کرتے ہوئے پاکستان سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور واقعے کو قابل مذمت توڑ پھوڑ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس مندر کی عمارت کو 21 جولائی کو شدید بارشوں سے نقصان پہنچا تھا۔

سجاد حیدر خان کے مطابق مقامی حکام پہلے ہی بارش سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لے چکے ہیں اور عمارت کی بحالی کے لیے اقدامات بھی شروع کردیئے گئے ہیں۔

انہوں نے بھارتی مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’یہ شرمناک ہے کہ بھارت حقائق کو مسخ کررہا ہے اور سستی چالیں چل رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حقائق کو جان بوجھ کر مسخ کرنا بھارت کے اندر اقلیتوں کے خلاف ’منظم ظلم و ستم اور ان کی عبادت گاہوں پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے حملوں‘ کے انتہائی خراب ریکارڈ سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

سجاد حیدر خان نے مزید کہا کہ دنیا ہندوتوا نظریے کو اقلیتوں کے خلاف استعمال کیے جانے سے بخوبی آگاہ ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارتی قیادت کو مسلمانوں، سکھوں اور مسیحی برادریوں کے خلاف مبینہ ’ظلم و ستم‘ کا جواب دہ بنایا جائے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نارووال کے مندر سے متعلق بھارتی مؤقف زمینی حقائق کے برعکس ہے اور مقامی حکام کی جانب سے بارش سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کے بعد بحالی کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔