اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج کے بعد پہلی مرتبہ امتحانی پرچہ لیک اسکینڈل پر براہِ راست ردعمل دیتے ہوئے ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور امتحانی پرچوں کے لیک میں ملوث افراد کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایسے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کے مختلف شہروں، خصوصاً نئی دہلی میں، ہزاروں طلبہ گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاجی تحریک کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی ہے، جس کے کارکنان وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے، امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات اور طلبہ کے لیے بہتر مواقع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاج میں اس وقت شدت آئی جب نییٹ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کے بعد حکومت کو امتحان منسوخ کر کے دوبارہ منعقد کرنا پڑا۔ اس امتحان میں 20 لاکھ سے زائد طلبہ شریک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے آن لائن امتحانی نتائج سے متعلق تنازع نے بھی عوامی غصے میں مزید اضافہ کیا۔
گزشتہ پیر کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کے مطابق ان واقعات میں 178 افراد زخمی ہوئے جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے، جبکہ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی۔
