اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی دو قرض اقساط کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد نے ایندھن سپورٹ اسکیم فوری طور پر ختم کرنے، صحت و تعلیم کے اخراجات بڑھانے اور سرکاری اداروں کی گورننس بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق معاہدہ 37 ماہ کے ای ایف ایف کے چوتھے جائزے اور 28 ماہ کے آر ایس ایف کے تیسرے جائزے کے بعد طے پایا۔ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔
منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر جبکہ آر ایس ایف کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالر ملیں گے، جس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی وصولیاں تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ آئیوا پیٹرووا نے کہا کہ ایندھن سپورٹ اسکیم کی لاگت زیادہ اور اس کا دائرہ وسیع ہے، اس لیے اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں امداد محدود، عارضی اور موجودہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے مستحق افراد تک ہدف بنا کر پہنچانے پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تین ماہ کی ایندھن اسکیم کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے تھے، جس کے تحت موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کو 30 لیٹر تک ایندھن پر 100 روپے فی لیٹر معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے صحت اور تعلیم کے اخراجات ایف وائے 27 میں جی ڈی پی کے 2.8 فیصد تک بڑھانے کا عزم کیا ہے۔ یہ اخراجات ایف وائے 24 میں 2.2 فیصد سے بڑھ کر ایف وائے 26 میں 2.5 فیصد ہوچکے ہیں۔
ادارے کے مطابق ایف وائے26 کے پہلے نو ماہ میں حقیقی معاشی شرح نمو 4 فیصد رہی، جبکہ پورے مالی سال کی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ ستمبر میں مہنگائی 10.3 فیصد رہی اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ستمبر کے اختتام تک 21 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔
