Japan’s historic mission to retrieve samples from a Martian moon has launched; return to Earth is expected in 2031.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ جاپان نے مریخ کے بڑے چاند فوبوس سے مٹی اور پتھر کے نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کے لیے ایک اہم خلائی مشن روانہ کردیا ہے۔ جاپان کی خلائی ایجنسی کے مطابق منگل کو روانہ ہونے والا خلائی جہاز راکٹ سے کامیاب علیحدگی کے بعد اپنے مقررہ مدار میں داخل ہوگیا۔ مشن کا بنیادی مقصد مریخ کے چاندوں کی تشکیل کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور سیاروں کی تحقیق کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانا ہے۔

جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی، جسے جاکسا کہا جاتا ہے، کے مطابق ’مارشین مونز ایکسپلوریشن‘ یا ایم ایم ایکس نامی مشن نے ایچ تھری راکٹ کے ذریعے پرواز کی۔ راکٹ نے جنوب مغربی جاپان میں واقع تانیگاشیما اسپیس سینٹر سے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 41 منٹ پر اڑان بھری۔ یہ وقت گرین وچ معیاری وقت کے مطابق پیر کی رات 19 بج کر 41 منٹ بنتا ہے۔

مشن کے سربراہ ماکوتو اریتا نے کہا کہ خلائی جہاز غیر معمولی درستگی کے ساتھ اپنے طے شدہ مدار میں داخل ہوا۔ اس کا وزن 4,480 کلوگرام ہے اور یہ مریخ کے دو چاندوں میں سے بڑے چاند فوبوس کی جانب سفر کرے گا۔ منصوبے کے مطابق خلائی جہاز اگست 2027 میں مریخ کے مدار میں داخل ہوگا۔

مشن کے دوران فرانس اور جرمنی کے اشتراک سے تیار کردہ ایک روور فوبوس کی سطح پر اتارا جائے گا۔ اس کے بعد جاپانی خلائی جہاز دو مرتبہ وہاں اترنے کی کوشش کرے گا تاکہ سطح سے نمونے جمع کیے جاسکیں۔ سائنس دان ان نمونوں کا تجزیہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ فوبوس کس مادے سے بنا ہے اور اس کی تشکیل کس طرح ہوئی۔

نمونے جمع کرنے کے بعد خلائی جہاز مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا مشاہدہ بھی کرے گا۔ منصوبے کے مطابق یہ نومبر 2030 میں مریخ کے مدار سے واپسی کا سفر شروع کرے گا اور جولائی 2031 میں نمونے لے کر زمین پر پہنچنے کی توقع ہے۔

جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے مشن کی روانگی کا خیرمقدم کیا اور اس کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔ یہ مشن ابتدا میں 2024 میں روانہ ہونا تھا، تاہم ایچ تھری راکٹ کی پہلی پرواز ناکام ہونے کے بعد اسے مؤخر کردیا گیا تھا۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس مشن سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مریخ کے دونوں چاند کسی بڑے خلائی جسم کے ٹکرانے سے بنے یا وہ خلا میں موجود مادے کے اجتماع سے وجود میں آئے۔ اس تحقیق سے نظامِ شمسی کی تاریخ پر بھی روشنی پڑ سکتی ہے۔