اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی گزٹ میں شائع ہونے والے اپنے تجزیاتی مضمون میں شہزادہ ترکی الفیصل نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارت کاری، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے کے مستقبل پر تفصیلی اظہار خیال کیا ہے۔ ان کے مطابق 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط نے دنیا اور خطے کو امید دلائی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
وہ لکھتے ہیں کہ 2 محرم کو ہونے والے اس معاہدے کے ذریعے تقریباً چار دہائیوں سے جاری سرد جنگ کے بعد سفارت کاری کے ذریعے تنازع کی بنیادی وجوہات حل کرنے اور خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم 2015 کے پی5+1 جوہری معاہدے کے بعد تقریباً تین سالہ نسبتاً بہتر تعلقات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار رہا۔
ان کے مطابق دونوں فریقوں نے 14 نکاتی یادداشت کو 60 روزہ مذاکرات کے دوران اپنے اپنے مفادات کے مطابق حتمی تصفیے تک پہنچنے کا موقع سمجھا۔ مذاکرات میں خطے میں جنگ کا خاتمہ، ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی صورتحال، پابندیاں، ناکہ بندی کا خاتمہ اور دیگر اہم معاملات شامل تھے۔
شہزادہ ترکی الفیصل لکھتے ہیں کہ اس مفاہمت کا عالمی سطح پر، خصوصاً عرب خلیجی ممالک نے خیرمقدم کیا، جبکہ خلیجی ریاستوں نے خود ایرانی حملوں کا سامنا کرنے کے باوجود دیگر ثالثوں کے ساتھ فعال سفارت کاری جاری رکھی تاکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ تاہم ان کے مطابق باہمی اعتماد کی کمی، معاہدے کی مختلف تشریحات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی سفارت کاری پر انحصار نے مذاکرات کو پیچیدہ کردیا، جس کے باعث کوئی ایسا نتیجہ سامنے نہ آسکا جو خلیج اور خطے میں پائیدار امن و سلامتی یقینی بناسکے۔
ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق 5، جو آبنائے ہرمز سے متعلق تھی، کی ایرانی تشریح بھی مذاکرات کی ناکامی کی ایک اہم وجہ بنی۔ وہ لکھتے ہیں کہ تہران نے اس شق کو آبنائے پر مکمل خودمختاری کے حق کے طور پر دیکھا اور عمان سمیت دیگر خلیجی ممالک کے حقوق کو نظرانداز کیا۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کو دوبارہ دباؤ کے لیے استعمال کیا، حالانکہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے جہاں بین الاقوامی قانون کے تحت آزادانہ جہاز رانی کا حق موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی ناکہ بندی ختم کردی گئی تھی اور ایران کی تیل برآمدات دوبارہ شروع ہوچکی تھیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو عالمی دباؤ، پڑوسی ممالک کو بلیک میل کرنے اور سفارتی فائدے کے لیے استعمال کرنا بالآخر ایران ہی کے لیے تزویراتی نقصان ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایران آبنائے میں آمدورفت روکنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو اس سے اس کی عالمی ساکھ اور دیگر ممالک کا اعتماد متاثر ہوگا، جبکہ خطے کے ممالک اپنی درآمدات اور برآمدات کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں وقت کے ساتھ آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت بھی کم ہوسکتی ہے۔
وہ ایران کے جوہری پروگرام کو گزشتہ دو دہائیوں سے سفارتی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ حکمت عملی ایران کو عالمی تنہائی سے نہیں نکال سکی اور نہ ہی اسے اس جنگ سے بچا سکی جسے ایران روکنا چاہتا تھا۔ ان کے مطابق تہران کو ایک بین الاقوامی انقلابی تحریک کے بجائے ایک ذمہ دار قومی ریاست کے طور پر کام کرنا چاہیے، جو اپنے قومی مفادات کو امن، ترقی اور خوشحالی سے جوڑے اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی پاسداری کرے۔
شہزادہ ترکی الفیصل چین کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بیجنگ نے اپنی کمیونسٹ نظریاتی شناخت برقرار رکھنے کے باوجود عالمی نظام کے اندر ریاستی ذمہ داریوں کو قبول کیا۔ ان کے مطابق عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے مفاد میں ہے کہ ایران بھی ایسی تبدیلی کی جانب بڑھے۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اس کے خلاف کئی دہائیوں سے بننے والے منصوبوں کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ جنگ کے دوران ایرانی اقدامات نے اس کے پڑوسیوں کے حوالے سے اس کے مخالفانہ عزائم کو ظاہر کیا۔ ان کے مطابق ایران کے خیرسگالی کے دعوے اس وقت قابل اعتبار نہیں ہوسکتے جب خلیجی ممالک کے خلاف حملے اور دھمکیاں جاری رہیں، خواہ وہ براہ راست ایران کی جانب سے ہوں یا عراق اور یمن میں اس کے اتحادی گروہوں کے ذریعے۔
ان کے مطابق خلیجی رہنماؤں کی دانش مندی اور علاقائی سلامتی کی اہمیت کے ادراک نے انہیں جنگ میں شامل ہونے سے روکے رکھا اور انہوں نے طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی۔ وہ لکھتے ہیں کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی سفارت کاری نے ٹرمپ انتظامیہ، دیگر ثالثوں اور ایران کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے ایران کے خلاف تازہ کشیدگی روکنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز کو جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا تو اس کے اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایران، خطے اور پوری دنیا کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جوہری پروگرام پر دو دہائیوں کی سفارت کاری جنگ نہ روک سکی، اسی طرح آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال کرنا بھی ایران کو مطلوبہ تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کو بھی ان ممالک کے عوام کی جانب سے قبولیت حاصل نہیں جہاں وہ سرگرم ہیں، اس لیے ایران کے لیے بہتر راستہ امن اور تباہی سے گریز کا انتخاب ہے۔ ان کے مطابق ’مکہ معاہدے‘ کے ذریعے خود دفاع اور علاقائی استحکام پر مبنی ایک اتحاد ابھر رہا ہے، جس کے دروازے ان تمام ممالک کے لیے کھلے ہیں جو پائیدار امن اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات چاہتے ہیں۔
آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت مقررہ 60 روزہ مذاکراتی مدت بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوچکی ہے اور امریکا و ایران ایک بار پھر ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا نے تہران کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ایران پر اپنی سخت ترین ناکہ بندی عائد کردی ہے۔
