Iran War Coercive diplomacy has reached its limit

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والے کالم میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریسرچ کے غیر مقیم ریسرچ فیلو اور ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی احسان لکھتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی فی الحال روایتی جنگ نہیں بلکہ جبر پر مبنی سفارت کاری کا تسلسل ہے، تاہم موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ یہ حکمت عملی اپنی مؤثریت کھو رہی ہے اور تنازع کسی بھی وقت مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اپنے تجزیاتی کالم میں ڈاکٹر محمد علی احسان لکھتے ہیں کہ گزشتہ سات راتوں سے امریکا ایران کے مختلف فوجی اہداف پر حملے کر رہا ہے، جبکہ ایران بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی اور اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق محدود فوجی طاقت کا استعمال دراصل مخالف ریاست کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش ہوتی ہے، نہ کہ اسے مکمل طور پر شکست دینا۔

ان کے بقول اگر محدود دباؤ کے ذریعے امریکا اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر لیتا تو اسے نسبتاً کم قیمت پر کامیابی مل سکتی تھی، لیکن ایران کی مسلسل مزاحمت اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ حکمت عملی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں مکمل جنگ کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمد علی احسان کے مطابق تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جبر پر مبنی سفارت کاری ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی۔ انہوں نے عراق، افغانستان، کوسووو، لیبیا، شام اور دیگر تنازعات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ متعدد مواقع پر محدود فوجی دباؤ مطلوبہ نتائج نہ دے سکا اور بالآخر مکمل عسکری کارروائی کی نوبت آ گئی۔

وہ لکھتے ہیں کہ اس حکمت عملی کا بنیادی تضاد یہی ہے کہ ایک طرف مخالف کو طاقت کا خوف دکھایا جاتا ہے اور دوسری جانب مذاکرات اور رعایت کی پیشکش بھی کی جاتی ہے۔ اکثر ریاستیں اس رویے کو کمزوری سمجھتی ہیں، جس کے نتیجے میں مزاحمت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

ایران کے حوالے سے مصنف کا کہنا ہے کہ تہران کو خدشہ ہے کہ اگر وہ کسی ایک مطالبے پر آمادگی ظاہر کرے گا تو مستقبل میں اس پر مزید شرائط عائد کی جائیں گی۔ ان کے مطابق  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی نے بھی ایران کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث ایرانی قیادت اب مزاحمت کو اپنی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔

ڈاکٹر محمد علی احسان کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو روگ سٹیٹ اور حکومت کی تبدیلی جیسی اصطلاحات اور دھمکیوں نے بھی ایرانی قوم پرستی کو مزید تقویت دی ہے۔ ان کے بقول جب کسی ریاست کو اپنے بنیادی مفادات خطرے میں محسوس ہوں تو وہ سمجھوتے کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دیتی ہے۔

کالم کے اختتام پر مصنف لکھتے ہیں کہ امریکا اس وقت ایک اہم تزویراتی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک جانب محدود فوجی دباؤ ہے جو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب مکمل جنگ کا راستہ ہے، جس کے سیاسی، عسکری اور معاشی نتائج عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق تاریخ یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے دانشمندانہ سفارت کاری کو ترجیح دینا زیادہ مؤثر اور دیرپا حل ثابت ہو سکتا ہے۔