اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان کے نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے گزشتہ سات ماہ کے دوران بیرون ملک فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے 286 ریڈ نوٹس جاری کیے، جبکہ مختلف ممالک سے 53 مفرور افراد کو گرفتار کرکے پاکستان واپس لایا گیا۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور، جو این سی بی انٹرپول پاکستان کے سربراہ بھی ہیں، نے بتایا کہ اس عرصے میں مجموعی طور پر 290 انٹرپول نوٹس جاری کیے گئے۔
ان نوٹس میں 286 ریڈ، دو بلیو اور دو یلو نوٹس شامل تھے۔
ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق 286 ریڈ نوٹس میں سب سے زیادہ 225 ایسے ملزمان کے خلاف جاری کیے گئے جو قتل اور اقدام قتل کے مقدمات میں مطلوب تھے۔
مالی فراڈ اور دھوکا دہی کے مقدمات میں مطلوب 19 افراد کے خلاف ریڈ نوٹس جاری ہوئے، جبکہ انسانی اسمگلنگ کے 6 اور دہشتگردی کے 3 ملزمان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اغوا، بدعنوانی، ڈکیتی اور سائبر کرائم سمیت دیگر جرائم میں مطلوب 33 افراد کے خلاف بھی ریڈ نوٹس جاری کیے گئے۔
این سی بی انٹرپول ہر ملک میں انٹرپول سے متعلق سرگرمیوں کے لیے مرکزی رابطہ ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔
یہ ادارہ ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دوسرے ممالک کے متعلقہ اداروں اور انٹرپول کے جنرل سیکریٹریٹ سے جوڑتا ہے۔
بین الاقوامی تعاون کے لیے انٹرپول کا عالمی پولیس کمیونیکیشن نیٹ ورک I-24/7 استعمال کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے مطلوب افراد اور جرائم سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ریڈ نوٹس کا مقصد بیرون ملک موجود مطلوب افراد کی شناخت، گرفتاری اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ہے۔
گزشتہ سات ماہ میں 53 مفرور افراد کی گرفتاری اور انہیں پاکستان واپس لایا جانا بین الاقوامی پولیس تعاون کے ذریعے مطلوب ملزمان کے خلاف کارروائی میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
