History was made at the age of just 20, the sacrifice of Rashid Minhas Shaheed is a timeless story of bravery

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی فضائی تاریخ میں 20 اگست 1971 کا دن ایک ایسے واقعے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے جب صرف 20 سالہ پائلٹ آفیسر راشد منہاس نے ٹی-33 تربیتی طیارے میں پیش آنے والی ہنگامی صورتحال کے دوران وطن، فرض اور پاک فضائیہ کی ذمہ داری کو اپنی جان پر ترجیح دی۔ راشد منہاس شہید کو بعد از شہادت نشانِ حیدر سے نوازا گیا اور وہ پاک فضائیہ کے واحد افسر ہیں جنہیں پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز حاصل ہوا۔

راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی سے پاک فضائیہ میں شامل ہوکر ملک کے لیے پرواز کرنے کا خواب دیکھا۔ انہوں نے پی اے ایف اکیڈمی رسالپور سے تربیت حاصل کی اور 1971 میں جنرل ڈیوٹی پائلٹ کی حیثیت سے کمیشن حاصل کیا۔ بعد ازاں انہیں نمبر 2 اسکواڈرن، ماری پور، موجودہ پی اے ایف بیس مسرور میں تعینات کیا گیا، جہاں وہ لاک ہیڈ ٹی-33 جیٹ تربیتی طیارے پر کنورژن ٹریننگ کررہے تھے۔

20 اگست 1971 کو راشد منہاس اپنی دوسری سولو پرواز کے لیے تیار تھے۔ اسی دوران فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن زبردستی طیارے کے پچھلے کاک پٹ میں داخل ہوگئے۔ طیارے کے فضا میں بلند ہوتے ہی اسے بھارت کی جانب موڑ دیا گیا۔ راشد منہاس نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر اپنے بیس سے ریڈیو رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ طیارہ ہائی جیک کیا جارہا ہے۔

دو نشستوں والے جیٹ طیارے میں کنٹرول حاصل کرنے کی کشمکش انتہائی خطرناک تھی۔ طیارہ تیزی سے سرحد کی جانب بڑھ رہا تھا اور راشد منہاس کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے بہت کم وقت تھا۔ انہوں نے طیارے کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش جاری رکھی اور اسے بھارتی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مزاحمت کی۔

بالآخر ٹی-33 طیارہ سندھ کے علاقے ٹھٹھہ کے قریب گوٹھ خدا بخش کے مقام پر گر کر تباہ ہوگیا اور راشد منہاس شہید ہوگئے۔ طیارہ بھارتی سرحد تک نہیں پہنچ سکا اور اسے ملک سے باہر لے جانے کی کوشش ناکام ہوگئی۔

راشد منہاس کی اس غیر معمولی قربانی اور بہادری کے اعتراف میں انہیں بعد از شہادت نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ وہ پاک فضائیہ کے واحد افسر ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی کم عمری اور مختصر فوجی سروس کے باوجود آخری لمحات میں کیے گئے فیصلے نے انہیں پاک فضائیہ کی تاریخ کی نمایاں ترین شخصیات میں شامل کردیا۔

راشد منہاس کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے پی اے ایف بیس کامرہ کا نام تبدیل کرکے پی اے ایف بیس منہاس رکھا گیا۔ پاک فضائیہ کی جانب سے ان کی قربانی کو مختلف تقریبات اور سرکاری سطح پر خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ان کی داستان نئی نسل کے پائلٹس کے لیے فرض شناسی، بہادری اور وطن سے وفاداری کی مثال سمجھی جاتی ہے۔