اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق مصنوعی ذہانت کی دنیا میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی ہے، اوپن اے آئی نے اپنے اب تک کے سب سے طاقتور اے آئی ماڈل جی پی ٹی-6 آسٹرا کی محدود سطح پر لانچنگ شروع کردی ہے۔ کمپنی کے مطابق نئے ماڈل میں سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے کہا کہ اس سطح کی صلاحیت رکھنے والے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کے لیے سیکیورٹی کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ جی پی ٹی -6 ، جسے آسٹرا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جی پی ٹی-5 کی لانچنگ کے صرف ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے بعد سامنے آیا ہے۔
نئے اور زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز کے ممکنہ خطرات پر حالیہ عرصے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اوپن اے آئی نے اس موسم گرما میں دو ہفتوں کے لیے بعض ماڈلز کی تیاری بھی روک دی تھی، جب زیرِتجربہ دو ماڈلز سے منسلک ایک سیکیورٹی واقعہ اے آئی پلیٹ فارم ہگگنگ فیس پر پیش آیا تھا۔
تاہم آسٹرا خود اس ہیکنگ واقعے میں ملوث نہیں تھا۔ اوپن اے آئی کے مطابق نئے ماڈل کو اس واقعے کے بعد مزید مضبوط حفاظتی نظام کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ جمعرات سے بعض سائبر سیکیورٹی صارفین کو آسٹرا تک رسائی دی گئی، جبکہ دیگر ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے بھی اس کی دستیابی مرحلہ وار بڑھائی جائے گی۔ مفت صارفین اور سب سے سستے بامعاوضہ پلان پر موجود صارفین کو فی الحال رسائی نہیں ملے گی۔
آسٹرا ویب سائٹس بنانے، سائنسی تجزیے، گیم ڈویلپمنٹ، سائبر سیکیورٹی اور کوڈنگ سمیت کئی پیچیدہ کمپیوٹر کام خود انجام دے سکتا ہے۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اپارٹمنٹ تلاش کرنے جیسا کام، جس میں ایک انسان کو تقریباً 6 گھنٹے لگ سکتے ہیں، آسٹرا کے ذریعے 10 منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہوسکتا ہے۔
گریگ بروک مین نے کہا کہ یہ کہنا غیرمعقول نہیں کہ دنیا اب مصنوعی عمومی ذہانت یعنی اے جی آئی کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔
