اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق یمن کے حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود سے متعلق یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے اپنا حفاظتی انتباہ وسیع کردیا ہے۔ ادارے کے مطابق حوثی گروپ کی سعودی عرب کے اندر دور تک حملے کرنے کی صلاحیت اور ارادے کے باعث شہری پروازوں کو درپیش خطرات پر توجہ دینا ضروری ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون اور اناطولو ایجنسی کی 10 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ای اے ایس اے نے جمعے کو تنازعات سے متاثرہ فضائی حدود سے متعلق اپنی ہدایت نامہ اپ ڈیٹ کیا۔ یہ انتباہ گزشتہ ماہ جاری کیا گیا تھا، تاہم حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی فضائی حدود کے حوالے سے خطرات کا دائرہ دوبارہ زیرِ غور آیا ہے۔
ادارے کے مطابق سعودی عرب کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقے خصوصاً خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں، کیونکہ ان کی قربت یمن کے ان علاقوں سے ہے جہاں حوثی گروپ کا کنٹرول ہے۔ حالیہ حملوں نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ خطرات صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ریاض، تبوک، مدینہ اور ینبع جیسے مقامات تک حملوں کی رسائی کا خدشہ بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر کے آخر سے ریاض کے اطراف میزائل اور ڈرون حملوں کے واقعات بار بار پیش آئے ہیں۔ ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوششوں سے ہوائی اڈوں پر موجود طیاروں، ٹیک آف اور لینڈنگ کے مراحل کے دوران پروازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
ای اے ایس اے نے خبردار کیا کہ میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ فضائی دفاعی نظام کی کارروائیاں بھی شہری طیاروں کے لیے خطرہ پیدا کرسکتی ہیں۔ ایسے حالات میں کسی شہری جہاز کو غلطی سے خطرہ سمجھنے، میزائل یا ڈرون کی پرواز کے راستے میں آنے، دفاعی کارروائی اور فضا سے گرنے والے ملبے جیسے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔
یورپی ادارے کی ہدایات کا مقصد فضائی کمپنیوں کو خطرات کے مطابق پروازوں کے راستے، آپریشنل فیصلوں اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے میں مدد دینا ہے، تاکہ متاثرہ فضائی حدود میں شہری ہوا بازی کے خطرات کو مدنظر رکھا جاسکے۔
