Egypt’s major decision following attacks on Saudi Arabia Parliament approves military cooperation.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی تعاون کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یمن کے حوثی گروپ کے حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ 

پارلیمانی منظوری کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی سعودی قیادت کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے مملکت کی سرزمین، خودمختاری اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، پارلیمان نے دو تہائی اکثریت سے اس اقدام کی منظوری دی۔ اس معاملے پر 18، 19 اور 26 اکتوبر کو بند کمرے میں اجلاس بھی ہوئے۔ تاہم، منظوری کو مصر کی جانب سے فوری طور پر فوجی دستے بھیجنے یا کسی مخصوص فوجی کارروائی کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ 

دستیاب معلومات میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے تعاون کی اجازت تو واضح ہے، لیکن عملی تعیناتی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

حوثی حملوں، خصوصاً ریاض کے ہوائی اڈے اور سعودی آرامکو سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات نے خلیجی سلامتی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ 

مصر کے لیے یہ صورت حال اس لیے بھی اہم ہے کہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں عدم استحکام عالمی تجارت اور نہر سویز کی آمدورفت کو متاثر کر سکتا ہے۔

مصر مکہ دفاعی معاہدے کا رکن نہیں، تاہم موجودہ صورت حال میں اس معاہدے اور علاقائی دفاعی تعاون سے متعلق امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ 

مصر نے 2015 میں یمن کی جنگ کے دوران محدود کردار ادا کیا تھا، جس میں تقریباً 800 زمینی فوجیوں کی تعیناتی کا ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ مصری بحریہ نے بھی کردار ادا کیا تھا۔

سعودی عرب اور مصر کے درمیان قریبی سیاسی اور مالی تعلقات بھی اس فیصلے کے پس منظر میں اہم ہیں۔ 

سعودی عرب مصر کا ایک اہم شراکت دار رہا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطے علاقائی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

تاحال مصری اقدام کو سعودی عرب کے دفاع اور اس کی خودمختاری کے تحفظ تک محدود سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ یمن کے خلاف کسی نئی جارحانہ کارروائی کی منظوری۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ پارلیمانی اجازت عملی فوجی تعاون کی کس شکل میں تبدیل ہوتی ہے۔