Russian attack on a civilian shelter in Ukraine; aid workers also targeted.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ  یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے زاپوریژیا میں روسی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں امدادی کارروائیوں میں مصروف دو کارکن بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق روسی طیاروں نے علاقے کے قصبے کومیشوواخا میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا، جہاں شہری ہفتہ وار انسانی امداد کے حصول کے لیے جمع تھے۔

رپورٹ کے مطابق حملے کا آغاز اسکول پر پہلی بمباری سے ہوا، جس کے بعد روسی طیاروں نے مزید نو بم گرائے۔ ان حملوں میں وہ جگہ بھی براہ راست نشانہ بنی جہاں شہریوں نے پناہ لے رکھی تھی اور امدادی سامان کی تقسیم کا سلسلہ جاری تھا۔

حملے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری جان سے گئے، جبکہ امدادی کارروائیوں میں شریک دو کارکن بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ واقعے نے علاقے میں جاری انسانی امدادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کو معلوم تھا کہ اس مقام پر شہریوں میں امداد تقسیم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق روسی فوج نے ایسے مقام کو نشانہ بنایا جہاں لوگ بنیادی انسانی ضروریات کے حصول کے لیے جمع ہوئے تھے۔

زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملہ محض فوجی کارروائی نہیں بلکہ شہریوں اور امدادی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کا واقعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے اس طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ میں کشیدگی کم کرنے اور منصفانہ امن کی جانب بڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

یوکرینی صدر نے اس حملے کو روس کے ارادوں کا ایک اور ثبوت قرار دیا۔ ان کے مطابق جب امدادی سرگرمیوں کے لیے مختص مقام بھی محفوظ نہ رہے تو اس سے شہری آبادی کو درپیش خطرات کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔

کومیشوواخا میں ہونے والی بمباری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کے مختلف علاقوں میں شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو روسی حملوں کا سامنا ہے۔ تاہم اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد اور حملے کی تفصیلات سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔