اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق جاری رہے گی، جبکہ قانونی ویزے پر پاکستان آنے والے افغان شہریوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسے غیر ملکیوں کو مستقل قیام کی اجازت نہیں دیتا جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہ ہوں۔
گورنر نے واضح کیا کہ صوبے میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے جاری کارروائیاں بھی جاری رہیں گی اور اس معاملے پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان کے مطابق یہ اقدامات عوامی مفاد اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے کا عندیہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کوئی مفت سہولت یا جنگی انعام نہیں بلکہ صارفین اس کے بل ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں مناسب بجلی کی فراہمی ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی تقسیم اور لوڈشیڈنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈ مینجمنٹ کا تصور پیش کیا، تاکہ بجلی کی بندش پورے فیڈر کے بجائے مخصوص ٹرانسفارمر تک محدود رکھی جا سکے اور زیادہ صارفین کو بلاوجہ متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گورنر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں سے 70 فیصد فنڈز ان علاقوں پر خرچ کیے جائیں گے جو ماضی میں ترقیاتی سہولتوں سے محروم رہے ہیں۔ ان کے مطابق وسائل کی منصفانہ تقسیم سے صوبے کے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے گا۔
صوبے میں بدعنوانی کے الزامات سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، چاہے معاملہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ہو یا کسی دوسرے شخص کا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے خلاف قابلِ اعتبار شواہد موجود ہیں تو متعلقہ اداروں کو قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔
سڑکوں کے درمیان بجلی کے کھمبوں کی موجودگی کے معاملے پر گورنر نے کہا کہ وہ یہ مسئلہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے ساتھ اٹھائیں گے۔
ان کے مطابق سڑکوں پر نصب کھمبے ٹریفک کی روانی اور شہریوں کی آمدورفت میں مشکلات پیدا کرتے ہیں، اس لیے انہیں مناسب مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔
