Crypto world’s biggest security crisis, $6.3 billion stolen from Binance revealed

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق کرپٹو کرنسی کی دنیا کو ایک بڑے سائبر سیکیورٹی بحران کا سامنا ہے جہاں معروف ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینج بائنانس پر ہونے والے مبینہ ہیکنگ حملے میں 6.3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں کی چوری کا انکشاف ہوا ہے۔

 اس واقعے نے ڈیجیٹل کرنسیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ان کی سیکیورٹی اور تحفظ سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز اور دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ہیکرز نے کمپنی کے ایک سافٹ ویئر انجینئر کے لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کرکے حملے کی منصوبہ بندی کی۔

 حملہ آوروں نے مبینہ طور پر بائنانس کے رقم نکلوانے کے نظام تک رسائی حاصل کی، جس سے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل اثاثے منتقل کیے جا سکے۔

تحقیقات کاروں کے لیے اس حملے کا سراغ لگانا بھی مشکل ہو رہا ہے کیونکہ ہیکرز نے ایسے سافٹ ویئر کا استعمال کیا جس کا مقصد اپنی سرگرمیوں کے ڈیجیٹل نشانات مٹانا تھا۔

 بائنانس نے واقعے کے بعد رقم نکلوانے کی سہولت عارضی طور پر معطل کر دی اور یقین دہانی کرائی کہ صارفین کے نقصانات کی تلافی کمپنی اپنے فنڈز سے کرے گی۔

امریکی بلاک چین تجزیہ کاروں نے حملے میں شمالی کوریا کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

 دوسری جانب اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنی ٹیتر نے تقریباً 1.57 ارب ڈالر جبکہ سرکل نے 80 کروڑ ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کیے ہیں۔

واقعے کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔ بٹ کوائن کی قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ جبکہ ایتھیریم میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم بعد میں دونوں کرنسیوں نے جزوی بحالی دکھائی۔

دیگر کرپٹو کمپنیوں نے بھی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ کوائن بیس نے احتیاطاً اپنی آف لائن کی اسٹوریج کے طریقہ کار میں تبدیلی کی، جبکہ کریکَن نے صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

 او کے ایکس کے چیف ایگزیکٹو اسٹار سو نے انڈسٹری میں حقیقی وقت کے سیکیورٹی الرٹ سسٹم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ کرپٹو انڈسٹری میں سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔