Protest postponed for the protection of workers, states PTI Khyber Pakhtunkhwa.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد فوری احتجاج شروع نہ کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے کارکنوں کے تحفظ کو ترجیح دی۔

 صوبائی سیکریٹری علی اصغر خان کے مطابق، قیادت نے صورت حال کا جائزہ لے کر احتجاجی حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ کارکنوں کو غیر ضروری خطرات سے بچایا جا سکے۔

پارٹی رہنماؤں نے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ بھی دیا، جہاں پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 

پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام خٹانہ نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین غیر مسلح تھے، جبکہ انہیں روکنے والے مسلح تھے۔ یہ دعوے پارٹی رہنماؤں کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا نے اپنے مطالبات میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی، گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے، منتخب صوبائی حکومت کی بحالی اور آئینی حقوق کے تحفظ کو شامل کیا ہے۔

 پارٹی نے صوبے کے عوام کے سیاسی مینڈیٹ اور قدرتی وسائل پر ان کے حقوق کی بحالی پر بھی زور دیا۔

پارٹی قیادت نے صوبے کی سیاسی صورت حال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ مختلف سیاسی جماعتیں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کر سکیں۔ 

پی ٹی آئی کے مطابق، نومبر 2026 کے پہلے ہفتے کے اختتام تک ایک قومی لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہیے۔ اس عمل کا مقصد گورنر راج کے خلاف سیاسی ردعمل کو منظم کرنا اور آئینی و سیاسی مطالبات کو آگے بڑھانا ہے۔

صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور اس کے خلاف احتجاجی سرگرمیوں نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ 

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ منتخب حکومت کی بحالی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد ضروری ہے، تاہم پارٹی کی آئندہ حکمت عملی اور دیگر جماعتوں کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں حتمی صورت حال واضح ہونا باقی ہے۔