اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے حملوں میں شدت آ گئی ہے، جہاں جنوبی صوبے شبوہ میں سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر بمباری کے نتیجے میں 58 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے، جبکہ باغیوں نے سرکاری کنٹرول کے شہر مآرب پر بھی چار بیلسٹک میزائل داغے۔ یمنی حکام کے مطابق جنوبی علاقے لحج میں فوج نے حوثیوں کا ایک اور حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
شبوہ کے گورنر عوض الوزیر نے بتایا کہ پیر کو العَلَم کے تربیتی کیمپ پر حملے میں 58 افراد جان سے گئے، جبکہ 14 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیو میں زخمی افراد اور خون آلود لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق تربیتی مشق کے دوران سکیورٹی فورسز کو تین بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ادھر حوثیوں نے پیر کی رات مآرب پر چار بیلسٹک میزائل داغے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق میزائل گنجان آباد علاقے کی جانب آئے، جہاں بڑی تعداد میں بے گھر افراد رہائش پذیر ہیں۔ فوری طور پر جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس سے ایک روز قبل بھی مآرب پر آٹھ بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاع دی گئی تھی، جبکہ 15 اکتوبر کو رہائشی علاقوں پر مزید میزائل اور گولہ بارود استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
مآرب یمنی حکومت کا اہم گڑھ اور تیل و گیس کی پیداوار کا مرکز ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہاں 22 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد موجود ہیں، جس کے باعث کسی بھی حملے سے شہری آبادی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب صوبہ لحج کے مغربی علاقے کہبوب میں حوثیوں کے مسلسل حملوں کے بعد سدرن جائنٹس بریگیڈز نے دعویٰ کیا کہ سعودی قیادت میں اتحادی فورسز کی مدد سے حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ بیان میں حوثی جنگجوؤں کی ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا، تاہم تعداد نہیں بتائی گئی۔
سعودی قیادت میں قائم اتحادی کمان نے حوثیوں کو روایتی کشتیوں کے ذریعے ہتھیار اور فوجی سازوسامان یمن منتقل کرنے سے خبردار کیا ہے۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے تربیتی کیمپ کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں سعودی فورسز موجود تھیں، تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر اس بیان پر تبصرہ نہیں کیا۔ شبوہ خلیجِ عدن کے قریب واقع ہے اور یہاں بَلفح مائع قدرتی گیس کی تنصیب بھی موجود ہے۔
