Consensus on refugee seats in Azad Kashmir is essential; Speaker advises political parties to hold talks.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل سمیت اہم سیاسی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کو ماضی کی تلخیوں میں الجھنے کے بجائے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غلطیوں سے سیکھنا دانش مندی ہے اور اداروں میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔

جمعرات کو اسپیکر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ آزاد کشمیر موجودہ بڑے انتظامی ڈھانچے اور بھاری اخراجات کے ساتھ ترقی نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق نوجوان قیادت پر مشتمل نئی منتخب حکومت کو کام کرنے کا موقع دینا چاہیے، جبکہ ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حکومتی کارکردگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بجلی اور آٹے پر سبسڈی برقرار رہے گی، تاہم عوامی ریلیف کو مؤثر بنانے کے لیے مستحق افراد کی نشاندہی اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔ اسپیکر نے آئینی عہدوں اور انتظامی حکومت کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اسپیکر حکومت کا حصہ نہیں ہوتا، جیسے ریاست کا صدر کابینہ کا رکن نہیں ہوتا؛ حکومت وزیراعظم اور کابینہ پر مشتمل ہوتی ہے۔

چوہدری طارق فاروق کے مطابق حکومت کو اقتدار سنبھالے چند ہفتے ہی ہوئے ہیں اور کابینہ کی تشکیل کا دوسرا مرحلہ ابھی باقی ہے، جسے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی پاکستان واپسی پر مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے سات حلقوں میں انتخابات زیر التوا ہونے کے باعث کابینہ کو وسعت نہیں دی گئی، کیونکہ ان حلقوں کی نمائندگی کے بغیر حکومت کو مکمل طور پر فعال قرار نہیں دیا جاسکتا۔

پونچھ میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ریاستی صدر کے ذریعے غیر رسمی مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اسپیکر نے امید ظاہر کی کہ پسِ پردہ رابطے مثبت نتائج دیں گے اور میڈیا سے اپیل کی کہ بات چیت کے نتائج سامنے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے مختصر دورِ حکومت میں پونچھ کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، جبکہ مرحلہ وار انتخابات پر اس کی رضامندی بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی صدر اور تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

چوہدری طارق فاروق نے بتایا کہ وہ اور مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنما ایک سال قبل موجودہ صورت حال کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنانے کی تجویز دے چکے تھے، تاہم کسی جماعت نے اس کی حمایت نہیں کی۔