The Makkah defense alliance has no regional agenda; its objective is collective defense and deterrence DG ISPR.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کا کوئی علاقائی یا جارحانہ ایجنڈا نہیں، بلکہ اس کا مقصد تینوں ممالک کے لیے اجتماعی دفاع اور بازداریت کو مضبوط بنانا ہے۔

العربیہ انگلش کے پروگرام گلوبل نیوز ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط تعلقات کو اجتماعی دفاع اور بازداریت کے شعبے میں باضابطہ شکل دیتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، اس میں کوئی جارحانہ پہلو یا علاقائی عزائم شامل نہیں۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کے دیگر ملکوں، اتحادوں اور بلاکس کے ساتھ آزادانہ تعلقات ہیں اور نیا دفاعی معاہدہ ان تعلقات کا متبادل یا حریف نہیں بلکہ ان کی تکمیل کرتا ہے۔

اس سوال پر کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوجائے تو باقی ممالک کس طرح ردعمل دیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دفاعی معاہدوں کی عملی اور آپریشنل تفصیلات عام طور پر منظرعام پر نہیں لائی جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے عوامی طور پر جاری کردہ متن میں باہمی دفاع کی ذمہ داری واضح ہے، تاہم اس ذمہ داری کو عملی طور پر کس طریقے سے نافذ کیا جائے گا، یہ تینوں ممالک کا معاملہ ہے۔

چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد اسلام آباد اور بیجنگ کے تعلقات سے متصادم نہیں بلکہ ان کی تکمیل کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں کے چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ یہ صرف مسلم ممالک کے لیے کوئی نیا سکیورٹی کلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں اسے مسلم اتحاد قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس کا مقصد علاقائی امن، استحکام، عدم جارحیت، عدم مداخلت اور اجتماعی بازداریت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے ممالک جو ان اصولوں اور علاقائی امن و سلامتی کے مشترکہ تصور پر یقین رکھتے ہوں، اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں، تاہم توسیع کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادتیں کریں گی۔

مکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ 31 اگست کو استنبول میں اتحاد کا پہلا اجلاس ہوا، جہاں ابتدائی تین سال کے لیے سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ترکیہ کی جانب سے مصر سمیت دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کا ذکر سامنے آیا، تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ نے گزشتہ ہفتے واضح کیا تھا کہ اس مرحلے پر اتحاد کی توسیع زیر غور نہیں۔