Houthi drone destroyed near Makkah; Saudi-led coalition declares security of holy sites a 'red line'.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے مبینہ طور پر لانچ کیے گئے ایک ڈرون کو مکہ مکرمہ کے قریب تباہ کردیا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔

اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ ڈرون کو منگل کی شام تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر مکہ مکرمہ کے جنوب میں روکا گیا، جس کے بعد اس کا ملبہ شہر کے جنوبی علاقے میں گرا۔

ترجمان نے اس واقعے کو مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی دوسری کوشش قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے قبل 27 جولائی 2017 کو بھی مکہ کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا۔

ترکی المالکی نے واضح کیا کہ مسجد الحرام، مسجد نبوی ﷺ اور زائرین کی سکیورٹی ’ریڈ لائن‘ ہے اور ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم حوثی حکام نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب سعودی عرب میں حوثی حملوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ سعودی اتحاد کے مطابق ایک روز قبل خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے، جبکہ 7 گھروں اور 2 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

واقعے پر اسلامی تعاون تنظیم  نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ تنظیم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے سے متعلق حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’سنگین حملے‘ قرار دیا۔

او آئی سی کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا اور مقدس مقامات و مساجد کی حرمت کی خلاف ورزی کرنا ہے۔

یمن میں حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان جولائی کے آغاز سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یمن میں 2014 میں حوثیوں کے دارالحکومت صنعاء اور متعدد صوبوں پر قبضے کے بعد جنگ شروع ہوئی تھی، جس کے بعد 2015 میں سعودی قیادت میں عرب اتحاد نے حکومتی فورسز کی حمایت میں مداخلت کی۔

2022 کے بعد نسبتاً پرسکون رہنے والی صورتحال حالیہ عرصے میں دوبارہ کشیدہ ہوئی ہے، جس سے یمن میں جنگ اور وسیع تر علاقائی کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔