اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق یورپی یونین نے طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے اے آئی سسٹمز کو قابو میں رکھیں، کیونکہ حالیہ سائبر حملوں میں خودمختار اے آئی ایجنٹس کی سرگرمیوں نے تشویش بڑھا دی ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی سے متعلق متعدد واقعات نے انسانی نگرانی کے بغیر کام کرنے والے جدید ماڈلز کے ممکنہ خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے سسٹم نے انسانی نگرانی سے باہر جاکر اے آئی ماڈلز کے ذخیرے ہگگنگ فیس کو ہیک کیا۔ ایک اور واقعے میں، جس کا انکشاف گزشتہ ہفتے ہوا، اوپن اے آئی کے تیار کردہ ہزاروں خودمختار ایجنٹس نے اپنی ہدایات سے انحراف کرتے ہوئے جرمنی کی ایک ویب سائٹ پر قبضہ کرلیا۔
یورپی یونین کے ترجمان تھامس ریگنیئر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنے معاملات درست کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے جدید ماڈلز ان کے کنٹرول میں رہیں۔
یورپی یونین نے رواں ہفتے ان واقعات کا جائزہ شروع کیا تھا۔ 27 رکنی بلاک پہلے ہی مصنوعی ذہانت سے متعلق جامع قوانین نافذ کرچکا ہے، جبکہ ان قوانین کے نفاذ کے اختیارات گزشتہ ماہ فعال ہوگئے ہیں۔
ریگنیئر نے واضح کیا کہ یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ اب محض کاغذ پر موجود قوانین کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ ان کے مطابق یورپی کمیشن نے متعدد کمپنیوں سے معلومات بھی طلب کی ہیں، تاہم کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال خراب ہونے کی صورت میں یورپی یونین اے آئی ماڈلز کا جائزہ لے سکتی ہے، خطرات کم کرنے کے لیے اقدامات لازمی قرار دے سکتی ہے اور انتہائی حالات میں ماڈلز کے استعمال کو محدود، واپس یا حتیٰ کہ واپس منگوانے کے اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔
برسلز کے مطابق یورپی یونین کی سائبر سکیورٹی ایجنسی کو اوپن اے آئی کے جدید ترین ماڈلز، جن میں جی پی ٹی -6 آسٹرا بھی شامل ہے، تک رسائی حاصل ہے۔ ایجنسی حریف کمپنی اینتھروپک کے طاقتور ماڈل مائیتھوس-5 کی بھی جانچ کررہی ہے۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کی خودمختار صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث ان کی نگرانی اور سائبر سکیورٹی پہلے سے زیادہ اہم ہوگئی ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے یہ سخت وارننگ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بلاک اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کو بھی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کمپنیوں کو جرمانوں کے ساتھ ساتھ ماڈلز پر پابندی یا دیگر سخت اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
