اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے جنوبی شام میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کی گرفتاری سمیت بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں منگل کو پیش کی گئی تازہ رپورٹ میں کمیشن کی رکن فیونوالا نی اولائن نے کہا کہ جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی آپریشنز زیادہ مسلسل اور مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔
ان کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے زمینی دراندازی، گشت، چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیاں بار بار کی جارہی ہیں، جن سے مقامی شہریوں کی زندگی متاثر ہورہی ہے۔
اقوام متحدہ کے کمیشن نے بتایا کہ اس نے شام کے جنوبی صوبوں قنیطرہ اور درعا میں اسرائیلی فوج کی جانب سے عارضی چیک پوسٹوں اور مستقل فوجی انفراسٹرکچر کے قیام کو بھی دستاویزی شکل دی ہے۔
کمیشن کے مطابق جون تک اسرائیلی فوج نے شام کی سرزمین پر 49 شامی شہریوں کو گرفتار کیا تھا، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ ان افراد کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں سرحد پار اسرائیل منتقل کیا گیا۔
فیونوالا نی اولائن نے انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ ایسی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ بعض گرفتار افراد کو بیرونی دنیا سے رابطے کے بغیر رکھا گیا، جس سے ان پر ممکنہ تشدد یا بدسلوکی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں بعض مقامی باشندوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی بھی کرنا پڑی۔
اقوام متحدہ کے کمیشن نے شام میں اسرائیلی موجودگی کو جارحانہ قبضہ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کی کارروائیوں سے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت متاثر ہورہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی مشن نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کارروائی کو اسرائیل مخالف اجلاس قرار دیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ شام میں اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں اور اس نے سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے عارضی بفر زون قائم کیا ہے۔
اسرائیلی مؤقف کے مطابق بفر زون شام کے تقریباً 0.1 فیصد رقبے کے برابر ہے اور اسے اسرائیلی شہریوں کو سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
