اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکا کے ایک فوجی جج نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ایف بی آئی کے سامنے دیے گئے اعترافات کو مقدمے میں ناقابلِ قبول قرار دے دیا، جس سے تقریباً دو دہائیوں سے تاخیر کا شکار کیس میں پراسیکیوشن کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے۔
لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے فیصلے میں قرار دیا کہ خالد شیخ محمد کے 2007 میں دیے گئے بیانات رضاکارانہ نہیں تھے اور سی آئی اے کی حراست کے دوران ان کے ساتھ کیے گئے جبری سلوک کا تسلسل ان اعترافات تک بھی پہنچا۔
خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں خفیہ سی آئی اے حراستی مراکز میں رکھا گیا، جہاں ان سے سخت تفتیش کی گئی اور متعدد مرتبہ واٹر بورڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
2006 میں انہیں گوانتانامو بے منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں ایف بی آئی کے اہلکاروں نے ان سے پوچھ گچھ کی۔
پراسیکیوشن نے خالد شیخ محمد کی جانب سے بعد میں دیے گئے اعترافات کو مقدمے کے اہم شواہد میں شمار کیا تھا، اس لیے فوجی جج کا حالیہ فیصلہ امریکی حکومت کے لیے اہم قانونی نقصان سمجھا جارہا ہے۔
خالد شیخ محمد اور ان کے تین شریک ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت اب 5 جون 2028 سے گوانتانامو بے میں شروع ہونا طے ہے۔
مقدمے میں خالد شیخ محمد کے علاوہ ولید محمد صالح مبارک بن عطاش، مصطفیٰ احمد آدم الحوساوی اور علی عبدالعزیز علی شامل ہیں۔ چاروں پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، جن میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
جج شراما نے پراسیکیوشن کی جانب سے جنوری 2027 میں ٹرائل شروع کرنے کی تجویز بھی مسترد کردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخ تک مقدمے سے پہلے شواہد اور دیگر قانونی درخواستوں پر کارروائی مکمل کرنے کے لیے کافی وقت دستیاب نہیں ہوگا۔
یہ مقدمہ تقریباً دو دہائیوں سے قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ 2024 میں خالد شیخ محمد اور دو شریک ملزمان نے اعتراف جرم کے معاہدوں پر رضامندی ظاہر کی تھی، جن کے تحت انہیں سزائے موت سے بچایا جاسکتا تھا۔
پینٹاگون کے گوانتانامو وار کورٹ کے نگران عہدیدار نے ان معاہدوں کی منظوری دی تھی، تاہم ری پبلکن قانون سازوں کی مخالفت کے بعد اس وقت کے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے انہیں منسوخ کردیا۔
بعدازاں امریکی اپیل عدالت نے بھی ملزمان کو ان معاہدوں کے تحت اعتراف جرم کرنے سے روک دیا تھا۔
متاثرہ خاندانوں نے طویل عرصے سے جاری مقدمے کے مزید تاخیر کا شکار ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تازہ فیصلے کے بعد شواہد اور تفتیشی طریقوں سے متعلق قانونی جنگ مزید طویل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
