اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق سویڈن نے فن لینڈ کی فضائی نگرانی اور علاقائی تحفظ مضبوط بنانے کے لیے گریپن لڑاکا طیاروں اور ایک کارویٹ جنگی بحری جہاز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مشن کم از کم 2026 کے اختتام تک جاری رہے گا۔
فن لینڈ کی دفاعی افواج نے جمعہ کو بتایا کہ سویڈش فوجی سامان خاص طور پر فضائی نگرانی کو مضبوط کرے گا، جس سے فن لینڈ کی اپنی دفاعی افواج کے وسائل ممکنہ خلاف ورزیوں اور دیگر سکیورٹی واقعات سے نمٹنے کے لیے دستیاب رہیں گے۔
سویڈن اور فن لینڈ نیٹو کے دو نئے رکن ہیں اور دونوں ممالک پہلے ہی قریبی دوطرفہ دفاعی تعاون رکھتے ہیں۔ فن لینڈ کی روس کے ساتھ مشرقی سرحد تقریباً 1,340 کلومیٹر، یعنی 833 میل طویل ہے۔
سویڈن کے وزیر دفاع پال جونسن نے رائٹرز کو بتایا کہ فن لینڈ نے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث فضائی دفاع مضبوط بنانے کی درخواست کی تھی، جس پر اسٹاک ہوم نے فوری ردعمل دیا۔
جونسن کے مطابق معاہدے کے تحت ضرورت پڑنے پر سویڈش مسلح افواج فن لینڈ کی سرزمین کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد کرسکتی ہیں۔
سویڈن کی جانب سے فراہم کیے جانے والے دفاعی وسائل میں گریپن لڑاکا طیاروں کے علاوہ ایسے بحری جہاز شامل ہیں جن میں ڈرونز کے خلاف کارروائی کی صلاحیت موجود ہے۔
سویڈن نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر زمین سے فضا میں ڈرون شکن نظام بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔
اسی دوران سویڈش دفاعی کمپنی ساب نے اعلان کیا کہ اسے فن لینڈ کی جانب سے آر بی ایس 70 این جی پورٹیبل فضائی دفاعی میزائل نظام کے لیے 1.2 ارب سویڈش کرونا، یعنی تقریباً 126 ملین ڈالر کا آرڈر ملا ہے۔
سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے بعد دونوں ممالک کا دفاعی تعاون مزید اہم ہوگیا ہے، خصوصاً روس کے ساتھ فن لینڈ کی طویل سرحد کے تناظر میں۔
فن لینڈ کے لیے سویڈن کی تازہ فوجی مدد کا مقصد فضائی نگرانی بڑھانے، ڈرون خطرات سے نمٹنے اور ممکنہ خلاف ورزیوں کے مقابلے میں اضافی وسائل فراہم کرنا ہے۔
فن لینڈ کی دفاعی افواج کے مطابق سویڈش وسائل کی موجودگی سے فن لینڈ اپنی فوجی صلاحیتوں کا ایک حصہ دیگر ممکنہ خلاف ورزیوں اور سکیورٹی واقعات سے نمٹنے کے لیے محفوظ رکھ سکے گا۔
