اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت تہران سے بات چیت نہیں کر رہا اور اس کی توجہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے پر مرکوز ہے، جبکہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والے ممالک کو بھی ممکنہ پابندیوں کی وارننگ دے دی ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے بات نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اس وقت ملاقات کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن تہران کے خلاف اقتصادی اقدامات پر توجہ دے رہا ہے اور ایران کو معاشی طور پر دباؤ میں لانے کی پالیسی جاری رہے گی۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بھی واضح کیا کہ امریکا کی اقتصادی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کرتا۔ فاکس اینڈ فرینڈز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس مہم کو آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد ایرانی معیشت کو تباہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم صدر ٹرمپ نے تمام آپشنز بدستور کھلے رکھے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو مختلف ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے مالی روابط ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس مہم کو اکنامک ڈی ڈے‘ قرار دیا گیا تھا، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے فوری طور پر کسی ملک پر نئی پابندیاں عائد نہیں کیں۔
ٹرمپ سے جب روس کے ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ماسکو کے خلاف کارروائی کا فیصلہ صورتحال پر منحصر ہوگا۔ ان کے بقول روس نے آبنائے ہرمز کے معاملے میں اب تک مناسب رویہ اختیار کیا ہے۔
چین کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا چین کی جاسوسی کی شکایت کرتا ہے، لیکن واشنگٹن بھی چین کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ چینی بینکوں پر ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کی صورت میں پابندیاں عائد کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے، تاہم امریکا اپنے ہر اقدام کا پیشگی اعلان کرنے کا پابند نہیں۔
