US decision to give modern missiles to South Korea, North Korea's strong threat

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو امریکی میزائلوں کی ممکنہ فروخت اور پیانگ یانگ میں انسانی حقوق کی نگرانی سے متعلق امریکی منصوبوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے طاقتور جواب دینے کی دھمکی دے دی۔ شمالی کوریا نے واشنگٹن کے اقدامات کو اپنے خلاف جاری دشمنانہ پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی سے خطے کے سکیورٹی ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن نے جنوبی کوریا کو اے آئ ایم-9ایکس سائیڈونڈر بلاک 2 میزائلوں اور متعلقہ سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 125 ملین ڈالر ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جزیرہ نما کوریا میں شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی کشیدگی برقرار ہے اور امریکا جنوبی کوریا کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کررہا ہے۔

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں امریکی اسلحے کی فروخت پر سخت تنقید کی۔ ترجمان نے کہا کہ ہم جنوبی کوریا کو امریکی اسلحے کی فروخت کے علاقائی سکیورٹی ماحول پر منفی اثرات کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ بیان میں جنوبی کوریا کے لیے یعنی ریپبلک آف کوریا کی اصطلاح استعمال کی گئی۔

پیانگ یانگ نے واشنگٹن کی جانب سے شمالی کوریا میں انسانی حقوق اور معلومات کی رسائی سے متعلق منصوبوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ شمالی کوریا کا مؤقف ہے کہ امریکا ان اقدامات کے ذریعے اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اس پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس اینڈ لیبر نے گزشتہ ہفتے ایسے اداروں کے لیے ایک کھلا مقابلہ شروع کیا تھا جو شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے کے منصوبوں پر کام کریں گے۔ امریکی حکام کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے معلومات پر قائم اجارہ داری کو چیلنج کرنا ہے۔

شمالی کوریا نے امریکی اسلحے کی فروخت اور انسانی حقوق سے متعلق اقدامات دونوں کو اپنے خلاف واشنگٹن کی وسیع تر پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ پیانگ یانگ کی جانب سے طاقتور جواب کی دھمکی نے ایک بار پھر امریکا، جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کردیا ہے اور خطے میں سلامتی کی صورتحال پر نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔