اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون خبر کے مطابق بنگلہ دیش نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان رواں ماہ مکہ مکرمہ میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ ڈھاکا نے سعودی عرب کی جانب سے اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت کو مثبت قرار دیا ہے۔
بنگلہ دیش کے جونیئر وزیر خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں اسلامی ممالک کے درمیان کوئی سکیورٹی انتظام موجود ہے تو بنگلہ دیش کے لیے اس میں شرکت پر غور کرنا غیر معمولی بات نہیں۔
ہمایوں کبیر نے صحافیوں کو بتایا کہ بنگلہ دیشی قیادت، بالخصوص وزیراعظم طارق رحمان، کو معاہدے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے ڈھاکا کو باضابطہ طور پر معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ دعوت کب دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تعلقات لازماً ختم نہیں ہوں گے لیکن دفاعی بلاک میں شامل ہونے کے بعد یہ سوال زیادہ مشکل ہوجائے گا کہ بنگلہ دیش کس جانب کھڑا ہے۔
دوسری جانب نئی دہلی اور ڈھاکا کے تعلقات بھی اس وقت حساس مرحلے میں ہیں، خصوصاً سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے معاملے پر۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے رواں ماہ مکہ مکرمہ میں اس دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مماثل قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
