انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو ڈربی کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کھلاڑی کو ہتھکڑیوں میں پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا، اس موقع پر ان کے ڈرہم ٹیم کے ساتھی میتھیو پوٹس بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈربی میں پیش آنے والی صورتحال سے آگاہ ہیں اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
برائیڈن کارس اور میتھیو پوٹس نے ڈربی شائر کے خلاف کاؤنٹی چیمپئن شپ کے میچ میں ڈرہم کی نمائندگی کی تھی جس میں ان کی ٹیم نے 338 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
کارس انگلینڈ کی جانب سے 14 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں اور حالیہ ایشز سیریز میں 22 وکٹیں حاصل کر کے نمایاں بولر رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان جو روٹ نے گزشتہ ہفتے ہی کھلاڑیوں پر رات کو باہر جانے کے حوالے سے نائٹ کرفیو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
کپتان کا مؤقف تھا کہ کھلاڑی بالغ ہیں اور وہ اپنی ذمہ داریوں کا خود احساس رکھتے ہیں۔
ابھی تک یہ سرکاری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ نائٹ کلب میں جھگڑے کی اصل وجہ کیا تھی۔
یاد رہے کہ رواں برس انگلینڈ کے دیگر کھلاڑی بھی نائٹ کلب کے تنازعات میں ملوث رہے ہیں۔
برائیڈن کارس کو پاکستان کے خلاف سیریز کے ابتدائی اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ جمعرات سے لارڈز میں شروع ہوگا۔
