EU's new crackdown on Russia, sanctions list expected to increase by a third

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق یورپی یونین نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کے خلاف اب تک کی سخت ترین پابندیوں میں سے ایک لانے کی تیاری شروع کردی ہے، جس کے تحت ماسکو کے فوجی صنعتی کمپلیکس سے وابستہ تقریباً 1,600 افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے جرمن اخبار کو بتایا کہ روس کے خلاف عائد موجودہ پابندیوں نے ماسکو کی جنگی مشین کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے، تاہم دباؤ مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کالاس کے مطابق یورپی پابندیوں نے روس کو ایک ٹریلین یورو سے زائد، یعنی تقریباً 1.16 ٹریلین ڈالر کے وسائل سے محروم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم خزاں میں وہ جنگ کے آغاز کے بعد روس کے خلاف پابندیوں کی فہرست پیش کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ نئی پابندیاں منظور ہونے کے بعد پابندیوں کی زد میں آنے والے روسی افراد اور اداروں کی مجموعی تعداد میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہوجائے گا۔ ان کے بقول ماسکو پر دباؤ اس وقت تک برقرار رہنا چاہیے جب تک روس یوکرین میں جنگ ختم نہیں کرتا۔

یورپی سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین کی خارجہ سروس تقریباً 1,600 افراد اور اداروں کو نئی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دے گی۔ ان میں زیادہ تر روس کے فوجی صنعتی شعبے سے وابستہ ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق نئی پابندیوں میں سفری پابندیاں، مالی لین دین پر پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنا شامل ہوگا۔ یورپی یونین پہلے ہی تقریباً 3,000 روسی افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرچکی ہے۔

یورپی خارجہ سروس کی جانب سے نئی فہرست ستمبر کے اوائل میں رکن ممالک کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اسے اکتوبر میں منظور کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مرتبہ نئی فہرست کے ساتھ وسیع شعبہ جاتی پابندیاں شامل نہیں ہوں گی، تاکہ پیکیج کی منظوری کا عمل نسبتاً تیز رکھا جاسکے۔