اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال دسمبر میں وطن واپس جائیں گی، چاہے انہیں گرفتاری، قید یا کسی بھی قانونی کارروائی کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ خوف ان کے عوام کے لیے ذمہ داری ادا کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
78 سالہ شیخ حسینہ نے نئی دہلی کے ایک مصروف پریس کلب میں آڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک اور عوام کو مشکلات میں چھوڑ کر مزید بیرون ملک نہیں رہ سکتیں۔ ان کا یہ بیان 5 اگست 2024 کی طلبہ تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کے خاتمے کی دوسری برسی کے موقع پر سامنے آیا۔
انہوں نے کہا، مجھے گرفتار کیا جا سکتا ہے، جیل بھیجا جا سکتا ہے، لیکن خوف میرے عوام کے لیے میری ذمہ داری کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دسمبر میں اس لیے وطن واپس آنا چاہتی ہیں کیونکہ یہی وہ مہینہ ہے جب 1971 میں بنگلہ دیش نے آزادی حاصل کی تھی۔
شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ تحریک کے دوران صدارتی محل پر مظاہرین کے دھاوے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت منتقل ہو گئی تھیں، جہاں وہ اس وقت سے مقیم ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران کریک ڈاؤن میں 1,400 تک افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ بنگلہ دیشی حکومت ان کی حوالگی کے لیے بھارت سے باضابطہ درخواست بھی کر چکی ہے، جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اس درخواست پر غور جاری ہے۔
شیخ حسینہ کے تازہ بیان پر ڈھاکا میں شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں مظاہرین نے ان کے پتلے نذر آتش کیے۔ اس سے قبل جولائی میں بھی انہوں نے ایک انٹرویو اور ای میل پیغام میں کہا تھا کہ وہ سال کے اختتام سے پہلے وطن واپس آنے کی خواہش رکھتی ہیں، خواہ اس کی قیمت انہیں جان یا آزادی کی صورت میں کیوں نہ چکانی پڑے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے کہا ہے کہ اگر شیخ حسینہ وطن واپس آتی ہیں تو انہیں تمام مقدمات میں قانون کے مطابق کارروائی اور منصفانہ عدالتی عمل فراہم کیا جائے گا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی سابق حکومت پر سیاسی مخالفین کے قتل، اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن، عدالتی نظام پر اثراندازی اور غیر منصفانہ انتخابات کرانے جیسے سنگین الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔
حکام نے مقامی میڈیا کو ان کی تقریر نشر کرنے سے روک دیا، تاہم ان کا خطاب آن لائن نشر ہوا جسے ہزاروں افراد نے دیکھا۔
